نظام وصیت — Page 185
185 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ نکھار کر اس کا گند دھو کر پھر خدا کے حضور میں مالی قربانی پیش کرو اور وہ جو یہاں مقبول ہو جائے گی وہ وہاں ضرور مقبول رہے گی۔اس کے بدلے یقینا گناہ معاف کئے جائیں گے۔اس کے بدلے یقیناً خدا تعالیٰ کے اور کثرت سے انعامات کی بارش نازل ہوگی لیکن جو قربانی یہاں رد کئے جانیکے لائق ٹھہرائی گئی اس نے آگے نہیں جانا۔جو مردود ہو گئی وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوگئی۔اس لئے وہ لوگ جو خدا کی راہ میں اموال خرچ کرتے ہیں ان کو جہاں یہ ایک عظیم سعادت نصیب ہوتی ہے وہاں ان کے لئے خوف کا بھی بہت مقام ہے۔مال خرچ کرنا کافی نہیں مال کو صاف اور پاک نیتوں کے ساتھ خرچ کرنا ضروری ہے۔رقم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔اس کے پیچھے قربانی کی روح کیا تھی؟ کیا تناسب تھا اس قربانی میں؟ یہ وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک اہمیت رکھتی ہے۔اور پھر اگر ایسی نیکیاں آپ کرتے ہیں جن کی نیکیاں کرتے کرتے حسرت لے کر اس دنیا سے اٹھ جاتے ہیں۔اگر اولاد اس نیت سے ان نیکیوں کو جاری رکھے کہ ہمارے والدین کی یہ حسرتیں رہ گئی تھیں تو قیامت تک کے لئے وہ خزا نے آپ کے لئے جمع ہوتے رہیں گے اور اس مضمون کی راہ میں کوئی قرآن کریم کی آیت کا مفہوم حائل نہیں ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر کوئی قرآن کریم کوسمجھ نہیں سکتا تھا۔جس کے دل پر الہاما نازل ہو رہا تھا قرآن کا اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا۔ان دو پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں آج وصیت سے متعلق چند باتیں احباب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔یہ دوراہنما اصول ہیں جن کے تابع ہمیں اپنے انتظامی معاملات کو بھی کھنگالنا ہوگا جو مال سے تعلق رکھتے ہیں اور دینے والوں کو اپنی انفرادی قربانی کو بھی اپنی انہی دو کسوٹیوں کے اوپر پورا اترتے ہوئے دیکھنے کی تمنا کرنی چاہئے۔یہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی نظام کچھ پرانا ہونے لگتا ہے تو اس میں قانونی اسی بیچ اور الجھنوں کا اضافہ ہونے لگتا ہے۔قانون تو اس لئے بنایا جاتا ہے کہ کسی مقصد کی روح کی حفاظت کی جائے لیکن