نظام وصیت

by Other Authors

Page 153 of 260

نظام وصیت — Page 153

153 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ مجلس قائم ہونی چاہیے۔یہ مجلس باہمی مشورے کے ساتھ اپنے صدر کا انتخاب کرے۔منتخب صدر جماعتی نظام میں سیکرٹری وصایا ہوگا۔ممکن ہے بعد میں ہم اس کا نام بھی بدل دیں لیکن فی الحال منتخب صدر ہی سیکرٹری وصایا ہوگا۔اور اس صدر کے ذمہ علاوہ وصیتیں کرانے کے یہ کام بھی ہوگا کہ وہ گا ہے گا ہے مرکز کی ہدایت کے مطابق وصیت کرنے والوں کے اجلاس بلائے۔اس اجلاس میں وہ ایک دوسرے کو ان ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کریں جو ایک موصی کی ذمہ داریاں ہیں۔یعنی اس شخص کی ذمہ داریاں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی بشارت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کے سارے فضلوں ، اور اس کی ساری رحمتوں اور اس کی ساری نعمتوں کا وہ وارث ہے۔اور وہ صدران کو یاد دلاتا رہے کہ تمام خیر چونکہ قرآن میں ہی ہے اس لئے وہ قرآن کریم کے نور سے پورا حصہ لینے کی کوشش کریں اور ان کو بتایا جائے کہ قرآن کریم کے انوار کی اشاعت کرنا ہر موصی کا بحیثیت فرد اور اب موصیوں کی مجلس کا بحیثیت مجلس پہلا اور آخری فرض ہے۔اور اس بات کی نگرانی کرنا کہ وقف عارضی کی سکیم کے ماتحت زیادہ سے زیادہ موصی اصحاب اور ان کی تحریک پر وہ لوگ حصہ لیں جنہوں نے ابھی تک وصیت نہیں کی۔اور ان پر یہ فرض ہے کہ پہلے وہ اپنے گھر سے یہ کام شروع کریں حتی کہ ان کے گھر میں کوئی مرد، کوئی عورت کوئی بچہ یا کوئی دیگر فرد جو ان کے اثر کے نیچے ہو یا ان کے پاس رہتا ہوا ایسا نہ رہے کہ جسے قرآن نہ آتا ہو۔پہلے ناظرہ پڑھنا سکھانا ہے پھر ترجمہ سکھانا ہے۔پھر قرآن کریم کے معانی پھر اس کے علوم اور اس کی حکمتوں سے آگاہ کرنا ہے۔پھر ان علوم کو ایک سخی کی طرح دوسروں تک پہنچانا ہے تا کہ جس فیض سے، جس برکت سے اور جس نعمت سے ہم نے حصہ لیا ہے۔اسی فیض ، برکت اور نعمت سے ہمارے دوسرے بھائی بھی حصہ لینے والے ہوں۔وقف عارضی میں مجھے ہر سال کم از کم پانچ ہزار واقف چاہئیں۔اس کے بغیر ہم صحیح رنگ میں جماعت کی تربیت نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم سب خصوصاً موصی صاحبان پوری کوشش اور جد و جہد سے کام لیں کہ واقفین عارضی کی تعداد اس سال بھی جو پہلا سال ہے پانچ ہزار تک پہنچ جائے تا تعلیم قرآن کا کام احسن طریق پر کیا جا سکے۔