نظام وصیت — Page 154
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ موصی صاحبان کے کام : 154 ہمارے موصی صاحبان کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے گھروں میں قرآن کریم کی تعلیم کا انتظام کریں۔دوسرا یہ کہ واقفین عارضی (جن کے سپر دقرآن کریم پڑھانے کا کام کیا جاتا ہے) کی تعداد کو پانچ ہزار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔تیسرے یہ کہ وہ اپنی جماعت کی نگرانی کریں (عمومی نگرانی، امیر یا پریذیڈنٹ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ) کہ نہ صرف ان کے گھر میں بلکہ ان کی جماعت میں بھی کوئی مرد اور کوئی عورت ایسی نہ رہے جو قرآن کریم نہ جانتی ہو ہر ایک عورت قرآن کریم پڑھ سکتی ہو تر جمہ جانتی ہو۔اسی طرح تمام مرد بھی قرآن کریم پڑھ سکتے ہوں۔ترجمہ بھی جانتے ہوں اور قرآن کریم کے نور سے حصہ لینے والے ہوں تا کہ قیام احمدیت کا مقصد پورا ہو۔اسی طرح وصیت کرنے والی بہنیں بھی ہر جماعت میں اپنی ایک علیحدہ مجلس بنا ئیں اور اپنا ایک صدر منتخب کریں جو نائب صدر کہلائے گی اور وہ جماعت سے تعاون کریں اور موصی مردوں کی مجلس سے بھی تعاون کریں اور ان روحانی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں جو مالی قربانیوں کے علاوہ اُن پر عائد کر رہا ہے۔آپ دوست یہ سن کر خوش ہونگے کہ بہت سے مقامات پر مردوں کی نسبت ہماری احمدی بہنیں قرآن کریم ناظرہ زیادہ جاننے والی ہیں۔ایک تو ہمیں شرم اور غیرت آنی چاہیے۔دوسری ہمیں خدا تعالیٰ کا شکر بھی بجالانا چاہیے کیونکہ جس گھر کی عورت قرآن کریم جانتی ہوگی اس کے متعلق ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ اس گھر کے بچے اچھی تربیت حاصل کر سکیں گے۔پس جیسا کہ نور کے اس نظارہ سے جسے میں نے ساری دنیا میں پھیلتے دیکھا ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی کامیاب اشاعت اور اسلام کے غلبہ کے متعلق قرآن کریم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجی اور ارشادات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں جو خو شخبریاں اور بشارتیں پائی جاتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے اس لئے میں پھر اپنے دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم پر