نظام وصیت — Page 152
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 152 تو فرما يا أُنْزِلَ فِيهَا كُلُّ رَحْمَةٍ کہ اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے والے وہ لوگ ہونگے جو قرآن کریم کی تمام برکتوں کے وارث ہونگے۔کیونکہ کوئی برکت بھی قرآن کریم سے باہر نہیں اور نہ کسی اور جگہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس لئے ایسے لوگوں پر ہر قسم کی نعمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ موصی صاحبان کا ایک بڑا گہرا اور دائمی تعلق قرآن کریم ، قرآن کریم سیکھنے ، قرآن کریم کے نور سے منور ہونے ، قرآن کریم کی برکات سے مستفیض ہونے اور قرآن کریم کے فضلوں کا وارث بننے سے ہے اسی طرح قرآنِ کریم کے انوار کی اشاعت کی ذمہ داری بھی ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی بعض برکات ایسی بھی ہیں جن کا تعلق اشاعتِ قرآن سے ہے۔جیسا کہ خود قرآن متعدد جگہ اسے بیان فرماتا ہے اور جس کی تفصیل میں جانا اس وقت میرے لئے ممکن نہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ان دو و حیوں کے ذریعہ ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ موصی حقیقتاً وہی ہوتا ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتیں ، اس کے فضل، اس کی رحمت اور اس کے احسان کی وجہ سے اس لئے نازل ہوتی ہیں کہ اس شخص نے اپنی گردن کلیۂ قرآن کریم کے جوا کے نیچے رکھی ہوتی ہے۔اپنے پر وہ ایک موت وارد کرتا ہے اور خدا میں ہو کر ایک نئی زندگی پاتا ہے اور اس وحی کی زندہ تصویر ہوتا ہے کہ الخَیرُ كله فِی القُرآنِ۔پس چونکہ وصیت کا یا کا یا موصی صاحبان کا ، قرآن کریم کی تعلیم ، اس کے سیکھنے اور اس کے سکھانے سے ایک گہرا تعلق ہے۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم قرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپر د کئے جائیں۔مجلس موصيان کا اجراء اور سیکرٹریان وصایا کی ذمہ داریاں : اس لئے آج میں موصی صاحبان کی تنظیم کا ، خدا کے نام کے ساتھ اور اس کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے اجراء کرتا ہوں۔تمام ایسی جماعتوں میں جہاں موصی صاحبان پائے جاتے ہیں اُن کی ایک