نظام وصیت

by Other Authors

Page 151 of 260

نظام وصیت — Page 151

151 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ حقیقتاً وہ عبارت اس نظام میں منسلک ہونے والے موصی صاحبان ہی کی کیفیت بتا رہی ہے کہ تمہیں وصیت کر کے اس قسم کا انسان بننا پڑے گا۔حضور فرماتے ہیں۔خدا کی رضا کو تم کسی طرح پاہی نہیں سکتے۔جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر ، اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جوموت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے لیکن اگر تم تلخی اٹھا لو گے ( یعنی اس میں شامل ہو جاؤ گے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہو گے تو حضور فرماتے ہیں ) تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آجاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے لیکن تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں۔“ (الوصیت ) ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔“ دراصل حضرت مسیح موعود کے ایک الہام کا ترجمہ ہی ہے جو بہشتی مقبرہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کیا تھا۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔چونکہ اس قبرستان کیلئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ بہشتی مقبرہ ہے بلکہ یہ بھی فرمایا أُنزِلَ فِيهَا كُلُّ رَحْمَةٍ یعنی ہر ایک قسم کی رحمت اس قبرستان میں اُتاری گئی ہے اور کسی قسم کی رحمت نہیں جو اس قبرستان والوں کو اس سے حصہ نہیں۔(الوصیت ) تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بتایا أُنزِلَ فِيهَا كُلُّ رَحْمَةٍ - اس قبرستان میں ہر قسم کی رحمت کو نازل کیا گیا ہے یعنی اس میں دفن ہونے والے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کے وارث ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان تمام نعمتوں کا کب اور کس طرح وارث بنتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک دوسرے الہام میں بتایا الخَيْرُ كُله فِي القُرآن۔ساری بھلائیاں اور نیکیاں اور سب موجبات رحمت قرآن کریم میں ہیں اور رحمت کے کوئی سامان ایسے نہیں جو قرآن کریم کو چھوڑ کر کسی اور جگہ سے حاصل کئے جاسکیں اور رحمت کے ہر قسم کے سامان صرف قرآن کریم سے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔