نظام وصیت — Page 150
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 150 آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کردیتی ہے۔اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کو ایک کنارے سے لیکر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس ٹور کا ایک حصہ جیسے جمع ہو رہا ہے۔پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی۔اور وہ بیتی برای لگم یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے۔جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے۔اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے سمجھائے۔چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑھا رہا تھا اور تیسری رکعت کے قیام میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ جو نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن کی سکیم اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے گا اور انوار قرآن اسی طرح زمین پر محیط ہو جائیں گے۔جس طرح اس نور کو زمین پر محیط ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔فالحمد لله على ذالك اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی متعدد بار خود قرآن کو اور قرآنی وحی کو نور کے لفظ سے یاد کیا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ وہ نور جو تمہیں دکھایا گیا یہی نور ہے۔پھر میں اس طرف بھی متوجہ ہوا کہ عارضی وقف کی تحریک جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے متعلق جاری کی گئی ہے اس کا تعلق کے ساتھ بڑا گہرا ہے۔چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود کے رسالہ ” الوصیت کوغور سے پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ واقع میں اس تحریک کا موصی صاحبان کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔اس وقت میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔صرف ایک بات آپ دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسالہ ” الوصیہ“ کے شروع میں بھی ایک عبارت لکھی ہے اور