نظام وصیت — Page 144
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 144 اور اپنے ساتھ دوسروں کو آگے بڑھانے والے ہوتے ہیں اگر اس کے برعکس ہوتا ہے تو پھر یہی ہوگا کہ ان کی وصیت منسوخ کر دی جائے گی۔ر پورٹ مجلس مشاورت 1980 صفحہ 131 تا 133 ) بے پردگی اور وصیت اکھٹی نہیں چل سکتی یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں۔یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روارکھا ہے ذرا انکی اخلاقی حالت کا اندازہ تو کریں۔اگر اس آزادی اور بے پردگی سے ان کی عزت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ ہماری جو عورت بے پرد ہو جاتی ہے اس کی وصیت قائم رہے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ وہ فسق و فجور کا دروازہ کھولنے والی ہے۔اس واسطے باقی جو ہیں عورتوں کی وصیت کے بارہ میں فیصلے وہ تو ہوتے رہیں گے بعد میں لیکن آج یہ اعلان کر دیا جائے کہ ہر عورت جو بے پرد ہے اس کی وصیت منسوخ کی جاتی ہے اور ہر مرد جو خدا کا خوف نہیں رکھتا اور اپنے بھائی کو ایذا پہنچاتا ہے اس کا مال غبن کر کے، زبان کی تیزیوں کے ساتھ اس کو طعنے دے کر ، اس کو حقیر سمجھ کر اور اپنے آپ کو کچھ سمجھ کر۔اس کی وصیت منسوخ کی جاتی ہے۔تکبر تو شیطان تک پہنچانے والی چیز ہے جو لوگ ایسے نمایاں طور پر ہمارے سامنے آجائیں یہ نہیں کہ بدظنی کر کے آپ ایک دوسرے کے اوپر ایک اور قسم کی الزام تراشی شروع کر دیں۔یا دوسروں کا مال کھانے والے ہوں۔قرآن کریم نے یہ اعلان کیا وَلَا تَأكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الحُكّامِ لِتَا كُلُوا فَرِيقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْم (البقرہ آیت : 189 ) کہ مال کھا کے اور جواز یہ پیدا کرو کہ ہم کورٹ میں گئے تھے اور جھوٹی گواہیاں ہم نے اپنے حق میں پیش کیں اور اپنے حق میں فیصلہ کر والیا۔جماعتی نظام کا یہ کام نہیں کہ ایسے حالات میں مثلاً کورٹ میں گئے اور غلط فیصلہ کر والیا کہ وہ رقم دلوائے۔لیکن جماعتی نظام کا یہ فرض ہے کہ ایسے آدمی کو وصیت سے