نظام وصیت

by Other Authors

Page 143 of 260

نظام وصیت — Page 143

143 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ اپنا مقام پہچاننے کے لئے اور اپنی ذمہ داریوں کا علم حاصل کرنے کے لئے ہر جگہ کچھ نمونوں کی ضرورت سمجھی گئی میں اس طرح بھی بیان کر سکتا ہوں ایک مثال کے طور پر کہ ہر جماعت میں کچھ لوگ ہوں جو خاص طور پر ہر میدان میں زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوں۔دعا گو بزرگ ہوں۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے ہوں۔ان کی دعائیں قبول ہوتی ہوں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے۔انسان اپنے زور سے تو نہیں کر سکتا۔بہر حال ایسے اعمال صالحہ ہوں کہ ہر گاؤں میں ایک نمونہ کے طور پر ہوں اور ان کو دیکھ کے باقی جماعت بھی اپنے اس معیار کو قائم رکھے جس معیار کا قائم رکھنا جماعتی ذمہ وار یوں کو نباہنے کے لئے ضروری ہے۔اس کے لئے یہ قائم ہوا ہے۔یہ قائدین کی جماعت ہے۔یہ لیڈرز کی جماعت ہے۔جماعت کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو ساری جماعت کو آگے لے کر چلنے والے۔سب سے مضبوط اپنے ایمانوں میں اور صاحب فراست اپنے اعمال میں اور سب سے زیادہ عاجزانہ دعائیں کرنے والے لوگ ہیں اور یہ خدا تعالیٰ سے خدا تعالیٰ کے پیار کو پانے والے چنیدہ لوگوں کا گروہ ہے جس طرح مگ کی ڈار جب اڑ رہی ہو تو ان کی تیر کے پھل کی طرح کی flight کی شکل بنتی ہے جو سب سے زیادہ مضبوط مگ ہوتا ہے وہ سب سے آگے ہوتا ہے۔یہی حالت ایک موصی کی ہے موصی اُسے نہیں کہتے جو مگ کی ڈار میں سب سے پیچھے تھک کے ڈار بھی چھوڑ رہا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اس بیچارے نے کیا قصور کیا کہ اس کو میں شامل نہیں کر رہے۔نظامِ وصیت میں ہم نے شامل نہیں کرنا۔میں شامل کرنے والا شامل کر گیا۔یہ ہے جو الوصیت میں کہا گیا ہے۔۔اب یہ کہ جی طالبہ ہے اس کا کیا قصور کہ اگر اس کے پاس پیسے نہیں۔اس کا کیا قصور کہ اگر ہمارے ملک میں ناولیں چھپنی شروع ہو گئیں اور وہ نماز کی بجائے ناولیں پڑھتی ہے اس طرح تو سارے دروازے آپ نے گندگی اور فسق کے کھول دیئے۔یہ موصیان کی جماعت ہے فاسقوں کی جماعت نہیں ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں سب سے پیارے وجود ہوتے ہیں جو جماعت احمدیہ میں خود قربانیاں کرنے والے، کہنے والے کہ اس طرح قربانیاں کرو۔اپنے ماحول کے اندر دوسروں کو اپنے پیچھے لگا کے آپ آگے بڑھنے والے