نظام وصیت — Page 145
145 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ باہر نکال دے۔۔۔۔بڑا اہم کام ہے جو ہمارے سپرد ہے اور اس اہم کام کے ایک نہایت اہم موڑ کے اوپر ہم پہنچ چکے ہیں اور غلبہء اسلام کی صدی جو میرے نزدیک ( میں بھی انسان ہوں، غلطی بھی کر سکتا ہوں میں نے بڑا سوچا۔دعائیں کیں اسی بات پر میرا انشراح صدر ہے کہ ) جو جماعت احمدیہ کی دوسری صدی ہے ، وہ صدی انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کی صدی ہے۔جماعت اس کے لئے تیاری کرے وہ غلبہ اسلام کی اگر صدی ہے تو انسانیت کے تم استاد ہو گے اور رہبر ہو گے۔کچھ کئے بغیر کیسے رہبر بن جاؤ گے اگر تم نہ سوچو گے نہ سمجھو گے نہ قرآن کریم پڑھو گے نہ بچوں کو پڑھاؤ گے نہ اپنی روحوں کو پاک کرو گے نہ خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرو گے نہ اس کے پیار کو حاصل کرو گے نہ دنیا کے لئے نشان بنو گے تو پھر کیسے ان کے قائد بن جاؤ گے۔(رپورٹ مجلس مشاورت 1980 ء صفحہ 135,134 ) وصیت کی خواہش رکھنے والا کوئی رعایت نہ مانگے یہ جو ہے ناں الوصیت کی روح اس کو سمجھ کے باتیں کرنی چاہئیں۔جماعت کے اندر ایک ایسا گروہ پیدا کرنا مقصود ہے جو با اخلاق ہو، دین اسلام کی تعلیم پر عمل کر رہا ہو۔دلوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ظاہر میں ہم اس سے یہ مطلب لیں گے کہ ہماری نگاہ اس کے اندر بنیادی طور پر کوئی کمزوری نہیں دیکھتی۔مثلاً با قاعدہ نمازیں پڑھتا ہے۔جو اسلام نے اس کو رعائتیں دی ہیں مثلاً ایک آدمی باہر کام کرتا ہے اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اپنے محلے کی مسجد میں آکے نماز پڑھے۔وہ رستے میں اگر کہیں راجباہ ہے تو اس کے کنارے پر نماز پڑھ سکتا ہے۔خوش معاملگی جو ہے اس کی دوسروں کے ساتھ اس کے معاشرتی تعلقات جو ہیں ان میں وہ اسلامی اصول تو ڑتا نہیں۔کسی کو دکھ نہیں پہنچا تا ، تو حید پر پوری طرح قائم ہے، کسی قسم کا شرک نہیں کرتا۔( یہ شق نمبر ۳ کے اندر آیا ہے شروع میں حضرت مسیح موعود نے تین بنیادی شقیں دی ہیں یہ نمبر ۳ ہے ) اور اس کے ساتھ نمبر ۲ شق یہ ہے کہ وہ مالی