نظام وصیت — Page 135
135 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ سے صرف نظام خلافت پور فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کی ہم باتیں کر رہے ہیں۔اس کے ذریعہ ایک عظیم بیج بو دیا گیا سے صرف نظام خلافت پورا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔آپ گھروں میں جا کر الوصیت کو پھر پڑھیں آپ کو پتہ لگے گا۔جس مقصد کے لئے کو قائم کیا گیا۔جس مقصد کو حضرت مصلح موعود (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اپنی ایک تقریر میں صرف ایک پہلو سے بڑا نمایاں کر کے اور بڑے حسین رنگ میں بیان کیا تھا کہ اقتصادی ضروریات کے سلسلہ میں اس کا کیا کردار ہے جو اس نے ادا کرنا ہے اور ہزاروں اس کی برکتیں ہیں۔صرف نظامِ خلافت ان برکات سے حصہ دار بنانے کا انتظام کر سکتا ہے۔یہ دونوں parallel یعنی پہلو بہ پہلو آگے چل رہے ہیں۔رپورٹ مجلس مشاورت 1976 صفحہ 182 ) جب تک موصی اور غیر موصی کے درمیان ما بہ الامتیاز نہ ہو وصیت کی روح قائم نہیں رہ سکتی پچھلے ۳-۴ مہینے میں ہماری بہت سی بہنیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فوت ہو گئیں اور جب ان کی وصایا میرے سامنے آئیں تو مجھے بڑی تشویش پیدا ہوئی کہ وصیت کی جو ساری رپورٹ تھی اس سے یہ پستہ لگتا تھا کہ ان کی حالت روحانی طور پر جس کے لئے اس کو قائم کیا گیا ہے ایک عام اوسط درجہ سے بھی نیچے ہے۔ویسے سارے احمدی خدا کے فضل سے سوائے چند ایک منافقین کے مخلص ہیں۔تو وہ اس معیار پر بمشکل پوری اترنے والی تھیں اور وصیت ان کی ہوئی ہوئی تھی۔مالی لحاظ سے انہوں نے ایک دھیلے کی قربانی نہیں کی۔ایک دھیلے کی قربانی نہیں کی اور وہ جو ۳ اور ے کی شرائط ہیں ان کے متعلق کسی نے سوچا ہی نہیں۔میں نے اس معاملے کو پیچھے ڈال دیا تھا۔میں دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے کوئی ہدایت دے تو رات خدا تعالیٰ نے مجھے مسئلہ سمجھا دیا۔یہ نہیں کہ الہام ، ویسے ہی روشنی ڈالی خدا نے میرے دماغ میں۔تو میرے دماغ میں یہ آیا کہ ایک موصی اور موصیہ اور ایک غیر موصی اور غیر موصیہ کے درمیان کوئی مابہ الامتیاز ہونا چاہیے۔دونوں کو آپ ایک جگہ تو کھڑا نہیں کر سکتے ، ایک مقام پر۔تو جب تک وہ مابہ