نظام وصیت — Page 136
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 136 الامتیاز نہ ہو اس وقت تک وصیت کی روح قائم نہیں رہتی۔ویسے تو ہمارا یہ کام نہیں اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے لیکن جو ظاہری نظام ہیں ان میں ظاہر پر فیصلہ کیا جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کا اپنے بندے سے تعلق ہے وہ خدا اور اس کے بندے کا تعلق ہے ہمیں تو نہ جائز ہے کہ اس میں دخل کریں اور نہ ہمیں طاقت ہے۔فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى ( النجم آیت : 33) یہ فیصلہ تو خدا تعالیٰ نے کرنا ہے،کس کی قربانی کو قبول کیا کس کی کو نہ کیا۔لیکن ہم نے ظاہری قوانین میں ، وصیت کے نظام کا ایک ظاہری حصہ ہے، اس میں یہ تو فیصلہ کرنا ہے کہ ایک موصیہ میں اور ایک غیر موصیہ احمدی عورت ہماری بہن میں ایک ماہ الامتیاز پایا جاتا ہے؟۔اگر کوئی امتیاز نہیں پایا جا تا اور آپ نے یہ تفریق کر دی تو کس نے آپ کو حق دیا ہے۔یہ تفریق کرنے کا کہ ایک کو آپ نے بہشتی مقبرے میں دفن کر دیا اور دوسری کو کہا کہ تو بہشتی مقبرہ میں نہیں جاسکتی۔یہ بنیادی بات ہے وصیت کے نظام میں۔رپورٹ مجلس مشاورت 1978 صفحہ 175,174 ) کو ہم مذاق نہیں بنا سکتے۔بڑی اہمیتوں کا مالک ہے یہ نظام میرے سامنے بعض ایسی وصیتیں آئی ہیں کہ ظاہری لحاظ سے جو ظاہری حکم ہم لگا سکتے ہیں بالکل معمولی درجے کی ایک ہماری بہن ہے اور اس کی وصیت ہو گئی۔ایسی وصیتیں ہیں کہ جو مثلا کسی وقت آمد تھی جائیداد بھی تھی مہر بھی تھا، مہر لیا اور خرچ کر لیا آمد ختم ہوگئی بوڑھی ہوگئی بیٹے کے گھر بیٹھی ہوئی ہے یا کسی اور رشتے دار کے ہاں رہ رہی ہے اُس وقت انہوں نے وصیت کر دی میری کوئی آمد نہیں میری کوئی جائیداد نہیں میرا کوئی اور اونچا مقام نہیں اور میں وصیت کرتی ہوں اور وصیت ہوگئی۔بالکل نظامِ وصیت کی روح کے خلاف ہوگئی۔حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے جہاں تک مستورات کی وصیت کا تعلق ہے ان کو بعض سہولتیں دی ہیں لیکن اس ضمن میں آپ کے جوارشادات ہیں میرے نزدیک ان کو بالکل غلط سمجھا گیا ہے۔میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ حضرت مصلح موعود