نظام وصیت — Page 134
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 134 دنیا میں اللہ تعالیٰ کے نمائندے کام کرتے ہیں انسانوں کے لئے وہ اپنی تقدیر کا ایک حصہ نافذ کرتا ہے اس واسطے معاہدہ اللہ تعالیٰ سے ہے وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُو اللَّهَ مِنْ قَبْلُ ( الاحزاب : 16) اس قسم کی بہت ساری آیات ہیں۔اللہ تعالیٰ سے یہ معاہدہ ہے اور خدا کا ہمیں یہ حکم ہے کہ نیک یا بد کاموں کا فیصلہ ظاہری حالات کے مطابق دیا کرو۔ورنہ ہمارا معاشرہ اور تمدن درست نہیں رہ سکتا۔رپورٹ مجلس مشاورت 1972 ء صفحہ 200,199 ) ایک حصہ کو اللہ تعالیٰ نے اس گندی دنیا میں ممتاز کرنے کے لئے قائم فرمایا تھا دراصل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنت میں وہی جائے گا جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہوگا۔دوسرے احمد یوں کے متعلق بھی ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی جنت میں جائیں گے لیکن جنت میں جانے والے اس گروہ میں سے ایک حصہ کو اللہ تعالیٰ نے اس گندی دنیا میں ممتاز کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ نظامِ وصیت قائم فرمایا تھا۔دراصل اس دنیا کی بہت ساری اقتصادی اور معاشرتی مشکلات کوحل کرنے کے لئے اس نظام کو قائم کیا گیا ہے تو جو غیر موصی ہیں ان کے متعلق بھی ہم امید رکھتے ہیں اور ان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو جنت میں لے جائے۔رپورٹ مجلس مشاورت (1973 ء صفحہ 213) جنت کے فیصلے کا ہمارا کام نہیں اب اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص ۴۵ سال تک تارک نماز رہا ہے اور اس کی وصیت بحال رہنی چاہیے تو میرا دماغ اس کو قبول نہیں کرتا لیکن میں یہ پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمارا یہ کام ہی نہیں ہے کہ یہ فیصلہ کریں کہ فلاں نے جنت میں جانا ہے یا نہیں۔یہ میرا کام نہیں ہے اور نہ ہی یہ آپ کا کام ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ مالک یوم الدین ہے وہی جزاوسزا کا مالک ہے اور وہی کسی کے جنت میں جانے نہ جانے کا فیصلہ فرماتا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت (1973 صفحہ 216,215)