نظام وصیت

by Other Authors

Page 124 of 260

نظام وصیت — Page 124

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 124 کے متعلق کسی تشریح کی اجازت نہیں ہے۔اور اگر وصیت کا نفس مضمون الہامی ہے۔۔۔تو پھر اس کی تشریح ہوسکتی ہے۔کہ کس قدر مال کسی کو قربان کرنا چاہیے کئی صورتیں ایسی پیدا ہوتی رہتی ہیں جن کے متعلق تشریح کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔مثلاً حضرت صاحب کی زندگی میں ہی رسالہ وصیت لکھے جانے کے بعد یہ صورت پیش آگئی تھی۔کہ جن کی کوئی جائیداد نہ ہو وہ کیا کریں۔وصیت کے دو سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے۔اس وقت تک مقبرہ میں چھ سات قبریں تھیں جن میں سے زیادہ انہی لوگوں کی تھیں جو مساکین تھے۔اور مخالفین کے ستائے ہوئے اپنے گھروں سے نکل کر یہاں بیٹھے تھے۔ان کی جائیداد ان کی قربانی ہی تھی۔پھر اب تک وصیت کے بارے میں نئے نئے جھگڑے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔وصیت کرنے والے فوت ہو جاتے ہیں۔پیچھے ان کے رشتہ دار وصیت کا روپیہ نہیں دیتے۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوا۔کہ کیا کیا جائے۔تو تجارب سے اس قسم کی ضرورتیں پیش آتی رہتی ہیں کہ تشریحات کی جائیں۔اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ بعض شقیں ایسی ہو سکتی ہیں کہ جو حضرت صاحب کی وفات کے بعد پیدا ہوں۔۔۔۔۔چونکہ رسالہ الوصیت سے جائیداد کی کوئی تشریح نہیں نکلتی۔اس لئے اس حصہ میں قیاس سے کام لینا ہمارا حق ہے۔اور اس بارے میں ایسا فیصلہ کرنے کا ہمیں اختیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا کرے۔۔اب یہ سمجھنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جائیداد کا لفظ لکھا ہے اور جائیداد ایک پیسہ بھی ہو تو اس کی وصیت کر دینی چاہیے درست نہیں۔کیا جنت ٹونا ہے۔کہ جس نے اس کے لئے ایک پیسہ دے دیا وہ بھی داخل ہو گیا۔اور کوئی امتیاز حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ان میں امتیاز قائم کرنا چاہتے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ پانچ سو روپیہ ماہوار تنخواہ والا اگر اپنے پیچھے ایک روپیہ چھوڑتا ہے اور وہ وصیت میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے کونسا امتیاز حاصل ہو گیا۔میرے نزدیک یہ فیصلہ کرنے میں بالکل اس غور سے کام نہیں لیا گیا جو مناسب اور ضروری تھا۔اور میں پیلاطوس کی طرح اس سے ہاتھ دھوتے ہوئے اسے منظور کرتا ہوں۔اور خود بری الذمہ ہوتا ہوں۔مگر