نظام وصیت — Page 125
125 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ کرنے والوں نے ٹھو کر کھائی ہے۔چونکہ یہ ایسے مسائل سے نہیں ہے جو شریعت کے بنیادی مسائل ہیں۔اس لئے میں کثرت رائے کا احترام کرتا ہوا اسے منظور کرتا ہوں۔حضور کی اس تقریر کے بعد نمائندگان نے درخواست کی کہ ہمیں اپنی رائے بدلنے کی اجازت دی جائے۔اس پر حضور نے فرمایا اگلے سال دیکھا جائے گا۔اب جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔مکرر عرض کرنے پر حضور نے فرمایا: ایک صاحب نے لکھا ہے کہ رائے بدلنے کی اجازت دی جائے۔ورنہ ڈر ہے کہ لوگ رائے دینا چھوڑ دیں گے۔میں کہتا ہوں یہ ایک گناہ کے نتیجہ میں دوسرا گناہ ہوگا۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر میں کثرت رائے کو رد کر دوں تو زیادہ خطرہ ہے۔لوگ کہیں گے جو بات اپنی رائے کے خلاف ہوتی ہے اسے رد کر دیتے ہیں۔پھر رائے دینے کا کیا فائدہ۔تو یہ آئندہ مشورہ کو تباہ کرنے والی بات ہوگی۔چونکہ یہ شریعت کا مسئلہ نہیں ہے اس لئے میں اس میں آزادی دیتا ہوں دوست اس لئے رائے بدلنا چاہتے ہیں کہ میں ناراض ہو گیا ہوں۔مگر ایسا نہیں ہے اور اس طرح میں اس آزادی کو قربان نہیں کرنا چاہتا جوخود پیدا کرنا چاہتا ہوں۔سوائے اس کے کہ نص صریح کے خلاف ہو۔یا نقصان عظیم پہنچ سکتا ہو۔یہاں استنباط کا کام ہے۔اور اگر آپ ہی آپ لوگوں نے اپنی ذمہ واری کا فیصلہ کرنا ہے میں نے اظہار اس لئے کیا ہے کہ دوست آئندہ ایسی آرائے میں جلد بازی نہ کریں۔میں نے اپنے لئے تو یہ رکھا ہے کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے لئے وصیت نہیں رکھی۔لیکن ہبہ کرنے سے تو منع نہیں فرمایا۔اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے احترام کے لئے وصیت تو نہ کروں گا۔مگر ہبہ ضرور کروں گا۔تا کہ ہم بھی اس مالی قربانی میں شریک ہوسکیں۔احباب نے پھر رائے بدلنے کی درخواست کی۔تو حضور نے فرمایا:- میں دوبارہ اس معاملے میں رائے لے لیتا ہوں۔لیکن اپنی جماعت کے لوگوں سے امید کرتا ہوں۔کہ وہ آزادانہ رائے دیں گے۔محض اس لئے رائے نہیں بدلیں گے۔کہ میری رائے ان کے خلاف ہے۔میں اپنی کہتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو ) جب مجھے آزادی رائے دیتے تو پھر میری جو رائے ہوتی خواہ وہ آپ کی رائے کے خلاف ہی ہوتی میں نہ بدلا کرتا تھا۔آپ لوگوں