نظام وصیت — Page 123
123 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ بناتی ہے۔مگر جو عورت دس روپے میں سے ایک روپیہ دیتی ہے وہ کون سے احساسات کی قربانی کرتی ہے۔یا جو دوسو یا چارسو ماہوار کما رہا ہے وہ اپنے معمولی مکان کے دسویں حصہ کی وصیت کر کے کون سے احساسات کی قربانی کرتا ہے۔میرے نزدیک اس قسم کی وصیتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا نہیں کرتیں۔اور ایسے لوگ مقبرہ میں داخل ہو جائیں گے جو دراصل داخل ہونے کے قابل قربانی نہ رکھتے ہوں گے۔خدا تعالیٰ تو ان کو بھی بخش دے گا کیونکہ یہ اس کا وعدہ ہے۔مگر ہماری بخشش مشکل ہو جائے گی کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منشاء کو پورا نہ کیا۔اس کے لئے ضروری ہے کہ جو سوال پیش کیا گیا ہے اس پر غور کیا جائے کہ وصایا کے لئے کیا شرائط ہوں اور کس حد تک کی رقم قربانی کہلا سکتی ہے۔ان سب امور پر غور کرنے کے لئے سب کمیٹیاں بنائی جائیں گی۔آپ لوگوں نے اس روح سے جس کا ذکر میں نے تقریر میں کیا ہے ان امور پر غور کرنا ہے سب کمیٹیوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ سلسلہ کے وقار اور بوجھوں کو مد نظر رکھتے ہوئے صحیح مشورہ دیں کہ کس طرح کام چلائے جائیں۔( احمد یہ گزٹ 26 فروری 1927 نمبر 12 جلد اوّل صفحہ 9،8 ) رسالہ الوصیت سے جائیداد کی کوئی تشریح نہیں نکلتی اس لئے اس بارے میں ایسا فیصلہ کرنے کا ہمیں اختیار ہے جو حضرت مسیح موعود کے منشاء کو پورا کرے بر موقع مجلس مشاورت منعقدہ 3 تا 5 اپریل 1926ء) میں اس امر کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ رائے دینے والوں نے اس امر پر اس مسئلہ کی بنیا درکھی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کی اصل بنیاد جائیداد پر رکھی ہے۔اس لئے ہمیں اس کی اتباع کرنی چاہیے۔لیکن میرے نزدیک یہ دیکھنا چاہیے کہ وصیت کا نفس مضمون الہامی ہے۔یا الفاظ الہامی ہیں۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس بارے میں آپ نے جو الفاظ لکھے ہیں وہ الہامی ہیں تو اس صورت میں ضروری ہے کہ ہر تشریح الفاظ کے نیچے لائی جائے۔مثلاً اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کا جو حصہ مقرر کیا ہے وہ الہامی ہے۔تو پھر ہمیں اس