نظام وصیت — Page 89
89 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ ہوتے ہیں۔وہ خود نفاق کی مرض میں مبتلاء ہوتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ نفاق کیا ہوتا ہے۔دراصل نفاق بھی جنون کی طرح ہوتا ہے جس طرح پاگل آدمی کبھی یہ نہیں مانتا کہ وہ پاگل ہے بلکہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں دوسرے پاگل ہیں۔اور جب اسے علاج کے لئے کہو تو وہ کہے گا میں بالکل اچھا ہوں اسی طرح منافق سمجھتا ہے کہ میں منافق نہیں۔اور خیال کرتا ہے کہ میں مصلح ہوں، حالانکہ وہ مفسد ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں مفسد نہیں۔غرض نفاق اور ایمان میں بہت چھوٹی سی دیوار ہے۔اتنی چھوٹی کہ وہ ذرا سی ٹھوکر سے ٹوٹ جاتی اور انسان کو مؤمنوں کے زمرہ سے نکال کر منافقوں میں شامل کر دیتی ہے۔منافقوں کی علامات بیان کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جب روایت کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، تبادلہ کلام ہو تو گالیوں پر اتر آتا ہے، وعدہ کرے تو اسکی خلاف ورزی کرتا ہے۔یہ تین منافقوں کی بڑی علامتیں ہیں۔منافق ہمیشہ گالیاں دینے والا جھوٹ بولنے والا اور وعدہ خلافی کرنے والا ہوگا۔سب سے بڑی وعدہ خلافی تو یہ ہے کہ خدا سے عہد کرتا اور پھر مکر جاتا ہے اور بائیں ہمہ وہ نادان خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سارے انعامات اسے حاصل ہو جائیں گے اور وہ جنت میں داخل ہو سکے گا۔حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے لئے جہنم تیار کر رہا ہے اور روز بروز اللہ تعالیٰ کے انعامات سے محروم ہورہا ہے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو کہتا ہوں کہ وہ وعدہ جو انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے کیا ہوا ہے دیکھیں کہ انہیں اس میں کس قدر پختگی حاصل ہے۔تم اپنے نفسوں پر غور کرو اور سوچو کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا اسے کس قدر پورا کیا۔مومن اور منافق میں یہی فرق ہے کہ مومن ہمیشہ یہ خواہش کرتا ہے کہ اسے اور قربانی کا موقع ملے اور منافق ہر قربانی پر روتا ہے اور کہتا ہے مصیبت آگئی۔چندہ دینا پڑے تبلیغ کے لئے نکلنا پڑے، خدمت دین کے لئے کوئی تحریک کی جائے ہر موقع پر وہ روئے گا اور کہے گا بڑی مصیبت ہے، ہر وقت چندہ ہی چندہ مانگا جاتا ہے۔جس کام کو انسان دل