نظام وصیت

by Other Authors

Page 88 of 260

نظام وصیت — Page 88

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 88 سے مانگی ہوئی سفیدی انسان کو روشن نہیں کیا کرتی بلکہ اندر کی سفیدی انسان کو روشن کیا کرتی ہے۔جب ایک شخص کے دل میں نور نہ ہو تو اس کے چہرے پر بھی نور نہیں آتا۔اسی لئے منافقوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی باتوں کی طرف نہ دیکھو بلکہ ان کے چہروں کی طرف دیکھو تمہیں نظر آجائے گا کہ ان پر نور نہیں۔ان کے چہرے دلالت کرتے ہیں کہ تقوی ، اخلاص، محبت اور قربانی کی ان لوگوں میں کمی ہے۔جب کبھی قربانی کا مضمون بیان ہو رہا ہوتو تم دیکھو گے کہ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمُ لوَاذًا (النور : 64) وہ ایچ بیچ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ہاں جب اپنے فائدہ کی بات ہو تو پھر سب سے بڑے مدعی و ہی بن جائیں گے اور کہیں گے کہ ہم ایسے اور ہم ایسے۔یہ دونوں قسم کے لوگ ہمارے اندر بھی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ جہاں ہم مخلصین کو بڑھانے کی کوشش کریں، وہاں دوسروں کو گھٹانے کی کوشش کریں۔نفاق قوم کے لئے ناسور ہوتا ہے۔جس طرح ناسور جس جسم میں پیدا ہو جائے اسے گھلاتا چلا جاتا ہے اسی طرح نفاق بھی جس شخص یا جس قوم میں ہو، اسے ہلاکت کے قریب کرتا چلا جاتا ہے۔تم نے ناسور کا مریض دیکھا ہوگا۔بظاہر اس کا سارا جسم اچھا ہوتا ہے اور کسی ایک مقام پر باریک سا سوراخ ہوتا ہے۔کبھی ہاتھ پر اور کبھی اور کسی حصہ جسم پر لیکن وہ ذرا سا زخم اندر ہی اندر انسان کو کھلا تا چلا جاتا ہے۔اگر ایک جگہ سے اچھا ہو جائے تو دوسری جگہ سے نکل آتا ہے اور اگر وہاں سے بھی اچھا ہو جائے تو تیسری جگہ سے پھوٹ پڑتا ہے۔یہی کیفیت نفاق کی ہوتی ہے۔بظاہر ایسا شخص بالکل تندرست معلوم ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ یہ معمولی بیماری ہے لیکن وہ ایسی خطرناک ہوتی ہے کہ جس طرح ناسور کی بیماری روح اور جان کو گھلائے چلی جاتی ہے۔تندرستوں کے زمرہ سے نکال دیتی اور موت کے قریب کر دیتی ہے۔اسی طرح نفاق کا بیمار بھی روحانی موت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اور روحانی زندگی سے لطف اٹھانے کا موقع اسے میسر نہیں آتا۔بظاہر اس کے تمام حالات درست ہوتے ہیں۔لیکن وہ چھوٹا سا نظر آنے والا آزار روزانہ اس کی حالت کو بد سے بدتر بنا تا چلا جاتا ہے۔یا درکھو نفاق اور ایمان میں لمبا فاصلہ نہیں ہوتا۔بہت لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید منافقوں کے سرسینگ