نظام وصیت

by Other Authors

Page 90 of 260

نظام وصیت — Page 90

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 90 سے نہیں کرتا بلکہ روتے ہوئے کرتا ہے، اس کے کرنے پر اسے ثواب کس طرح مل سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو ہمارے کاموں کی احتیاج نہیں۔وہ تو ایک گن کہنے سے قوموں کو بڑھا دیتا اور ایک گن کہنے سے انہیں گرا دیتا ہے۔مسلمان کبھی ساری دنیا کے حکمران تھے اور یورپین مادر زاد ننگے پھرا کرتے تھے۔لیکن مسلمان کیوں گر گئے اور کس لئے یورپین ترقی کر گئے۔یہاں تک کہ آج یورپین کہتے ہیں کہ مسلمان بد تہذیب اور علوم سے نابلد ہیں۔کس چیز نے مسلمانوں کو ذلیل اور پست کر دیا اور کس چیز نے یورپین لوگوں کو بڑھا دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کے گن کا کرشمہ ہے۔خدا نے یورپین قوموں سے کہا کہ بڑھو۔وہ بڑھنے لگ گئیں۔اور مسلمانوں کو سزا کے طور پر کہا کہ گر جاؤ۔یہ گرنے لگ گئے۔جب قربانی کے بعد دل میں محسوس ہو اس وقت سمجھ لینا چاہیے لینا چاہیے کہ ابھی کامل ایمان حاصل نہیں ہوا پس ہماری قربانیاں کیا چیز ہیں۔آج جو قربانیاں مسلمان کر رہے ہیں مجموعی طور پر ان تمام صحابہ کی قربانیوں سے بڑھ کر ہیں جو اپنا سارا مال خدمت دین کے لئے رسول کریم اللہ کے سامنے پیش کر دیا کرتے تھے مگر آج کل کے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ وہ نتیجہ پیدا نہیں کرتا جو رسول کریم نے کے زمانہ کے چند صحابہ تھوڑے سے روپے سے پیدا کرتے تھے۔آج کل بمبئی اور کلکتہ میں چلے جاؤ۔مسلمانوں کی بڑی بڑی عمارتیں نظر آئیں گی۔کالج ہوں گے ،سرائیں ہوں گی، مسجد میں ہوں گی ہیں ہیں لاکھ روپیہ کی عمارتیں بنی ہوئی ہوں گی مگر آج مسلمانوں کی مجموعی قربانیاں وہ رنگ نہیں لاتیں جو مدینہ کے چند مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں۔وہ تھوڑے تھے اور تھوڑا سرمایہ رکھتے تھے مگر باوجود اس کے جب وہ قدم اٹھاتے تھے تو حکومتیں ان کے سامنے گر جاتی تھیں جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ اخلاص والا دل جس سے قربانی کی جائے، ترقی دیتا ہے۔ورنہ اگر صرف مالی قربانی ہی ترقی دے سکتی تو آج مسلمان بہت زیادہ ترقی کر جاتے۔اگر کوئی شخص روتا ہوا اپنا آدھا مال بھی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتا ہے تو اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔فائدہ ہمیشہ انہی قربانیوں کا ہوتا ہے جو خوشی ، اخلاص اور بشاشت سے کی جائیں۔وہ قربانیاں جو بشاشت سے نہیں کی جاتیں ان کا ذرہ بھر بھی