نظام وصیت — Page 73
73 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ زیادہ روپیہ وصول ہو تو دوسروں کا بھی حق ہے کہ وہ کہیں کہ ان کا یہ مطلب ہے کہ بغیر کچھ دیے داخل ہو جائیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کم سے کم اس خیال کے جو لیڈر تھے ان کی یہ نیت نہ تھی۔اس خیال کے بہت بڑے مؤید میر محمد اسحاق صاحب تھے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ان کے ذہن میں یہ بات ی تھی کہ یونہی لوگ مقبرہ بہشتی میں دفن ہو جائیں بلکہ یہ تھی کہ وصیت کا منشاء ہی وہ ہے جوانہوں نے سمجھا دوسرے اس خیال کے مؤید شیخ عبد الرحمن صاحب مصری تھے۔ان کو بھی میں جانتا ہوں۔اور بچپن سے جانتا ہوں ان کا منشاء بھی یہی تھا کہ حضرت صاحب کا منشاء وہی ہے جو انہوں نے سمجھا۔انکی تائید میں جو اور لوگ تھے ان کی سخت غلطی تھی۔مگر جو کچھ انہوں نے کہا دیانتداری سے کہا اور مجھے ان کے متعلق ایک ذرا بھی شبہ نہیں کہ ان کا خیال تھا کہ بغیر کچھ دیے جنت میں داخل ہو جائیں۔پھر جس نے یہ کہا کہ وصیت کے نئے معنی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ روپیہ آئے اگر چہ اس کا خیال نہایت بیہودہ ہے۔مگر مجھے اس پر غصہ نہیں ہے کیونکہ میں یہی چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے زیادہ سے زیادہ روپیہ آئے۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد محمد اللہ کے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سب سے بڑا کافر ہوں۔اسی طرح میں کہتا ہوں اگر وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کی خاطر مال جمع کرنے سے مجھ پر لالچ کا الزام آتا ہے تو بخدا میں اس سے بھی بڑا لالچی ہوں جس قدر کوئی مجھے کہہ سکتا ہے۔اگر وصیت کے الفاظ مجھے اجازت دیتے تو میں کہتا ۱/۳ سے کم کی وصیت نہیں ہو سکتی لیکن افسوس کہ الفاظ اس لالچ کی اجازت نہیں دیتے۔پس مجھے تو خدا کے دین کے لئے روپیہ جمع کرنے کی اس سے زیادہ حرص اور لالچ ہے جس قدر کوئی کہہ سکتا ہے۔اگر مجھے حضرت مسیح موعود کے منشاء کے خلاف کا خیال نہ ہوتا اور پھر مختلف طبائع کا خیال نہ ہوتا تو میں اس وقت کی ضروریات کے مطابق یہی فیصلہ