نظام وصیت

by Other Authors

Page 72 of 260

نظام وصیت — Page 72

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ وصیت کو اس کے ماتحت لانا ہوگا۔72 اور جس بات میں قربانی نہ پائی جاتی ہوگی وہ وصیت کے خلاف ہوگی۔میں اس وقت تفصیلات کے متعلق بولنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔جس بات کے بتانے کے لئے کھڑا ہوا ہوں وہ یہ ہے کہ کسی دوست نے بتایا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے چونکہ آج کل روپیہ کی سخت ضرورت ہے۔اس لئے وصیت کے نئے معنے کئے جاتے ہیں۔جن سے غرض یہ ہے کہ زیادہ روپیہ وصول ہو جائے۔گو یہ نہایت نامعقول اعتراض ہے مگر میں اس پر برانہیں منا تا کیونکہ میں کسی سے اپنے لئے روپیہ نہیں مانگتا بلکہ خدا کے دین کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔اور اسی کے لئے میں روپیہ مانگتا ہوں اگر اس روپیہ سے خلیفہ کی ذاتی جائیداد بنتی اور اس کے رشتہ داروں کو ورثہ میں ملتی تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ میں اپنے لئے روپیہ جمع کرنے کے لئے ایسا کر رہا ہوں۔لیکن اگر یہ مال دین کی خدمت میں صرف ہوتا ہے۔اور مجھ کو ذاتی طور پر اس سے کوئی نفع نہیں پہنچتا تو پھر اگر میں وصیت کے ایسے معنی کرتا ہوں جن کی رو سے خدا تعالیٰ کے دین کے لئے زیادہ روپیہ جمع ہوسکتا ہے تو یہ میرے لئے کونسی شرم کی بات ہے۔حضرت مسیح موعود نے بھی وصیت کی غرض یہی بیان فرمائی ہے کہ اس ذریعہ سے جو روپیہ حاصل ہوگا وہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے خرچ کیا جائے گا۔پس جب کہ حضرت مسیح موعود کی اس سے یہی غرض ہے کہ روپیہ آئے جو دین کی اشاعت کے لئے خرچ کیا جائے تو پھر اگر ہم نے ایسے معنی کئے کہ زیادہ روپیہ آئے تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔کسی بات سے انسان کی دو غرضیں ایسی ہوتی ہیں جو مذموم ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ وہ ایسے عقائد گھڑنا چاہتا ہے جن کی وجہ سے دوسروں کو شکنجہ میں کس سکے۔اور دوسرے ذاتی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔وصیت کے معاملہ میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں پھر مجھے اس اعتراض پر کیا رنج ہو سکتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اس رنگ میں ہر بات کو بدلا جائے تو کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جو لوگ وصیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی قلیل ہی رقم ادا کرے اس کی وصیت ہو جاتی ہے۔ان کا یہ مقصد ہے کہ وہ بغیر کچھ دیے مقبرہ میں داخل۔ہو جائیں۔اگر ان کو حق ہے کہ یہ کہیں کہ وصیت کو مال کی قربانی اس لئے قرار دیا جاتا ہے کہ اس طرح