نظام وصیت

by Other Authors

Page 74 of 260

نظام وصیت — Page 74

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 74 کرتا کہ ۱/۳ حصہ کی وصیت کی جائے۔اب میں ایسا تو نہیں کر سکتا لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ یہ بھی جائز ہے۔جب احمدیت ترقی کرے گی ہماری جماعت کے لوگوں کی آمد نیاں زیادہ ہوں گی ہمارے ہاتھ میں حکومت آجائے گی۔احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے تو اس وقت ۱۰/ احصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی۔اس وقت سلسلہ کی باگ جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ اگر وصیت کے لئے ۳/ ا حصہ ضروری قرار دے دے تو یہ جائز ہوگا۔مگر ابھی وہی زمانہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے وقت تھا۔اس لئے ابھی یہ حکم نہیں دیا جاسکتا گو دل یہی چاہتا ہے کہ زیادہ روپیہ آئے اور ۳/ احصہ کی وصیت کی جائے مگر ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے۔۔۔اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی آمدنی زیادہ ہوگی مال و اموال کی کثرت ہوگی اور ۱۰/ ۱حصہ داخل کرنا کوئی بات ہی نہ ہوگی۔مگر اب تھوڑی جماعت ہے جس نے بہت بوجھ اُٹھانا ہے۔احمدیت کی وجہ سے ہمارے آدمیوں کی ملازمتیں رکی ہوئی ہیں۔ترقیاں رکی ہوئی ہیں۔تجارتیں رکی ہوئی ہیں۔ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ساتھ یا پینسٹھ فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہی بڑا سمجھا جاتا ہے۔لیکن جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم کی تکلیفیں نہ ہوں گی۔ایسے زمانہ میں اگر وصیت کے چندہ کو انتہائی حد تک بڑھا دیا جائے تو یہ بھی جائز ہوگا۔کیونکہ اصل غرض اس سے حضرت مسیح موعود کی مالی قربانی کا موقعہ دینا ہے اور مال زیادہ ہو تو زیادہ دینے سے ہی قربانی ہوسکتی ہے۔اگر حضرت مسیح موعود یہ فرماتے کہ جو شخص وصیت کئے بغیر مرے وہ دوزخی ہے تو میں کہتا ہوں وصیت کو وسیع کرو لیکن جب کہ آپ نے یہ نہیں لکھا اور وصیت کے بغیر بھی لوگ جنت میں جا سکتے ہیں۔تو معلوم ہوا کہ وصیت اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے ہے۔اور اگر کسی وقت ۱۰/ احصہ کی قربانی اعلیٰ نمونہ کے لئے کافی نہ ہو تو اس کو بڑھایا جا سکتا ہے میں اس کو جائز سمجھتا ہوں۔آگے اس وقت کے فقہاء کیا فقاہت کریں گے۔یہ ان کی بات ہے۔گو اس اعتراض پر مجھے خوشی ہوئی۔اگر یہ کسی نے کیا ہے۔لیکن چونکہ میں نے خود معترض سے یہ نہیں سنا اس لئے بالکل قرین قیاس ہے کہ جس دوست نے مجھے سنایا ہے ان کو بات کے سمجھنے میں غلطی لگی ہو۔لیکن اگر یہ صحیح ہے۔تو میں اعتراض کرنے والے کو نصیحت کرتا ہوں کہ بہت الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے منہ سے نکل جانے کے بعد انسان کو پچھتانا پڑتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے متعلق کسی