نظام وصیت

by Other Authors

Page 196 of 260

نظام وصیت — Page 196

ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 196 خاص گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ جو تاجر پیشہ تھے ان کے دین کو بھی شدید نقصان پہنچا اور چندوں کے عمومی معیار کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچا اور اس کی سزا بھی ان کو ملی ان کی اولادیں ضائع ہونی شروع ہوئیں کیونکہ جو نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ نفس کے حسد کی وجہ سے تنقید کرتا ہے، وہ خود اپنا نقصان کر رہا ہوتا ہے۔جس پر تنقید کی جاتی ہے اس میں کمزوریاں بھی ہوں تو خدا تعالیٰ اس سے درگزر کا معاملہ کر لیتا ہے لیکن نفس کی خاطر تنقید کرنے والے کو ہم نے اکثر بچتے ہوئے نہیں دیکھا۔جو نفس کی اندرونی خرابیوں کی وجہ سے یا رعونت کی وجہ سے تنقید کرتا ہے اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ان کی اولا دضائع ہو جاتی ہے۔چنانچہ یہ نقصان بھی پہنچا۔بہر حال اب صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کی جماعتی ضروریات تو بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہیں اور ہندوستان کی جماعتوں میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تعداد کے لحاظ سے بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اموال کے لحاظ سے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر رنگ میں برکت کا سلوک ہوا ہے۔اس کے باوجود ہندوستان کی جماعت اپنے پاؤں پر نہیں کھڑی۔یہ سارے جو تاریخی پس منظر میں نے بیان کئے ہیں ان کے بداثرات ایسے پھیلے ہیں اور اب تک ان کا نقصان پہنچ رہا ہے جماعت کو۔وہ ساری ضرورتیں جو میں جانتا ہوں کہ جماعت ہندوستان خود پوری کر سکتی ہے وہ دیکھتے ہوئے بھی نہیں کر رہی۔چندہ عام کا معیار گر گیا، وصیت کا معیار گر گیا، طوعی چندوں کا معیار گر گیا۔تبلیغ کے لئے جو دوسری تحریکات کی جاتی ہیں ان میں رد عمل بالکل مردہ سی کیفیت رکھتا ہے۔درویشوں کی ضروریات پوری کرنے کا معیار گر گیا۔وہی صدقہ خیرات ہی ہے۔صدقہ و خیرات بھیج دو۔حالانکہ در ویش تو ہماری سوسائٹی کی روح ہیں۔وہ تو اصحاب الصفہ کی تمثیل ہیں۔ان کے ساتھ یہ معاملہ کہ صرف صدقہ کی رقم وہاں جائے یہ تو بڑا اندھیر ہے، بڑا ظلم کا معاملہ ہے۔اپنے نفس سے ظلم کرنے والی بات ہے۔ان کو تو عزت کے ساتھ پیش کرنا چاہئے تھا جو کچھ بھی پیش کرنا چاہئے تھا۔اب جو جماعت کی طرف سے فوری ضروریات میرے سامنے آئی ہیں ان میں کچھ تو مقامات مقدسہ کی مرمتیں ہیں۔اگر وہ تعمیری مرمتیں پوری نہ کی گئیں عمارتوں سے تعلق رکھنے والی مرمتیں تو بہت سی