نظام وصیت — Page 195
195 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ چنانچہ ان کی اس قربانی کا ایک نقصان عموماً یہ دیکھا گیا کہ ہندوستان کی جماعت کے بہت سارے دوستوں نے یہ سمجھ لیا کہ ضرورتیں تو فلاں صاحب پوری کر رہے ہیں فلاں سیٹھ صاحب کو خدا تعالیٰ توفیق دے رہا ہے، اب ٹھیک ہے ضرورت پوری ہو گئی اب ہمیں کیا ضرورت ہے خواہ مخواہ اپنے بچوں کو تکلیف میں مبتلا کرنے کی۔دوسری طرف کچھ شریکے ہوتے ہیں کچھ اور رشک کے مادے یا حسد کے مواجہات ہوتی ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ ان برادریوں میں سے جن میں بڑی قربانی کرنے والے آئے بہت سے لوگ عام قربانی کے معیار سے بھی گر گئے۔انہوں نے ان قربانی کرنے والے کی نیکی کا مقابلہ اس طرح شروع کیا کہ اس کے مال تو گندے مال ہیں۔یہ جماعت بھی عجیب جماعت ہے پیسے کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، یہ نہیں دیکھتی کہ اس شخص کے کتنے نیک اعمال ہیں اس نے پیسہ کس طریق سے حاصل کیا تھا۔کتنی ٹیکس کی چوری کی تھی ،کتنی فلاں چوری کی تھی اور کتنی فلاں چوری کی تھی؟ اب جماعت میں نہ اس بات کی استطاعت ہے اور نہ جماعتی روایات کا یہ تقاضا ہے کہ ہر چندہ دینے والے کی نفسی کمزوریوں کی جستجو کرے تجسس کر کے معلوم کرے۔جب نظام کے سامنے باتیں آتی ہیں تو نظام ضرور پکڑتا ہے لیکن مالی کمزوریوں میں خصوصاً وہ جو دنیا کے اموال کے روز مرہ کے دستور سے تعلق رکھنے والی کمزوریاں ہیں ان میں نہ کبھی جماعت نے تجسس کیا ہے نہ جماعت کو یہ توفیق ہے کہ تجسس کر سکے اور اس کے پورے تقاضے پورے کرنے کے بعد فیصلہ دے کہ یہ مال حرام ہو گیا اور یہ مال حلال ہو گیا۔بہر حال وہ زبانیں کھلنے لگیں اور اعتراض ہونے لگے جو صرف ان افراد تک نہ رہے بلکہ جماعت کے نظام تک پہنچے اور اس قسم کی باتیں شروع ہو گئیں کہ جو روپیہ زیادہ دے دے اس کی عزت ہے اور جو روپیہ نہیں دیتا اس کی عزت نہیں۔حالانکہ ایسی باتیں کرنے والے خود ان سب برائیوں میں مبتلا تھے۔اگر وہ برائیاں اس شخص میں موجود تھیں۔بعینہ ان کے وہی دستور تھے کمانے کے۔کوئی فرق نہیں تھا اور کچھ نہ کچھ چندے وہ بھی دیتے تھے۔پس اگر زیادہ مالی قربانی مال کمانے کے طریق میں کوتاہیوں کے نتیجہ میں حرام ہو گئی تو تھوڑی کس طرح حلال ہوگی۔تو بجائے اس کے کہ رشک کا مقابلہ کرتے ، حسد سے مقابلہ شروع کر دیتے اور کثرت کے ساتھ بعض