نظام وصیت — Page 197
197 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ یادگار اور بہت ہی مقدس ایسے کمرے یا گھر ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام چلتے پھرتے رہے، جہاں آپ پر الہامات کی بارش ہوئی ، جہاں آپ نے تصنیفات کیں ، جہاں آپ اور ذکر الہی میں مصروف رہے ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔بہشتی مقبرہ ہے اس کی حفاظت کے تقاضے ہیں اور کئی قسم کے ہیں۔جو انہوں نے اندازہ لگایا وہ قادیان سے تعلق رکھنے والے اخراجات کا پندرہ لاکھ روپے کا اندازہ تھا اور جو کل سرمایہ انجمن کے ہاتھ میں اس وقت ہر قسم کا روپیا اکٹھا کر کے یعنی اس میں صد سالہ جو بلی کا روپیہ بھی شامل ہے وہ دو تین لاکھ سے زیادہ نہیں بنتا اور اس کے علاوہ دلی میں ایک شاندار مرکز جو ہندوستان کی جماعتوں کے شایان شان ہو اور ضرورتیں پوری کر سکے وہاں بننے والا ہے۔کانپور میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کی طرف رجحان ہے، مخالفت بھی ہے بڑی دیر کے بعد اللہ کے فضل سے وہاں تبلیغ کا غنچہ کھلا ہے اور رونق بنی شروع ہوئی ہے۔نئے احمدیوں کے خطوط آ رہے ہیں کہ خدا کے فضل سے ہم قربانی بھی دے رہے ہیں آگے تبلیغ کر رہے ہیں۔مگر مرکز کوئی نہیں کہاں بیٹھیں، کس جگہ ہم اجتماع کریں اور بھی بہت سی ضرورتیں ہیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے جو اندازہ لگایا تو میرے خیال میں چالیس پچاس لاکھ روپے تک کی ضرورت ہے۔مگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بیرون ہندوستان عام تحریک نہ کی جائے۔اس لئے اس تحریک کی جو میں کرنے لگا ہوں اس کی دو تین صورتیں ہیں جن کو ملحوظ رکھ کر جن لوگوں نے قربانی کرنی ہے وہ قربانی پیش کریں۔1۔ہندوستان کی جماعتیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور گذشتہ کوتاہیوں سے اور غفلتوں سے معافی مانگیں اور قربانی کے معیار میں دنیا کی باقی جماعتوں کے ساتھ چلنے کا عزم کرلیں۔عزم کریں گے ، دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ توفیق بھی عطا فرما دے گا۔میں جانتا ہوں کہ ہندوستان کی جماعتوں میں یہ توفیق ہے کہ اگر چاہیں تو بہت آسانی کے ساتھ یہ معمولی رقم پوری کر سکتے ہیں۔بعض شہر ہی یہ رقم پوری کر سکتے ہیں۔مگر بہر حال توفیق تو اللہ عطا فرماتا ہے اور یہ دل سے تعلق رکھنے والی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔