نظام وصیت — Page 105
105 ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ خدا تعالیٰ کے فضل تو اسقدر ہیں کہ اگر زمین کا چپہ چپہ بھی بہشتی مقبرہ بن جائے تو پھر بھی وہ فضل بچا ہی رہیگا۔ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کی نعش قادیان جائے گی۔مگر وہ صرف اپنی برکتیں لے جائے گی اس مقام پر اُسی طرح اس کی برکتیں نازل ہوتی رہیں گی جس طرح اب نازل ہورہی ہیں۔آخر رسول کریم ﷺ مکہ میں پیدا ہوئے مگر مدفون مدینہ میں ہیں پس جو خدا مکہ سے اپنی برکتوں کو بچا کر مدینہ لے گیا اور اس نے مدینہ کو بھی بابرکت کر دیا۔اسی خدا نے اس زمانہ میں قادیان کو بھی بابرکت کیا اور پھر قادیان کی برکتوں سے بچا کر اس نے ربوہ کو بھی بابرکت کردیا۔اس قسم کے خیالات محض لوگوں کے اپنے اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم غریب ہیں اسی طرح نعوذ باللہ خدا بھی غریب ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ مسلمانوں کی بادشاہی کے زمانہ میں ایک نائی جو امراء کی حجامتیں بنایا کرتا تھا اسے ایک دفعہ کسی امیر نے دوسو اشرفی انعام دیدی چونکہ دوسو اشرفی کی تحصیلی اسے یکدم ملی اس لئے وہ ہر وقت اسے اچھالتارہتا اور جب بھی کوئی شخص ملتا اور پوچھتا کہ سنائیے شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ بغداد کا کوئی ہی بدقسمت ہوگا جس کے پاس دو سو اشرفی بھی نہ ہو چونکہ وہ امراء کا نائی تھا اس لئے وہ تحصیلی کے متعلق زیادہ احتیاط نہیں کرتا تھا۔ایک دفعہ کسی امیر کو مذاق سوجھا اور اس نے چپکے سے وہ تھیلی کھسکالی۔اب وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ڈرتا تھا۔کہ امراء اسے کہیں گے کہ تو ہم پر چوری کا الزام لگاتا ہے مگر دوسری طرف اسے صدمہ بھی سخت تھا آخر غم کے مارے وہ بیمار ہو گیا جب لوگ اسے پوچھنے جاتے اور دریافت کرتے کہ بتلائیے اب شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ شہر کا کیا پوچھتے ہو وہ تو بھوکا مر رہا ہے آخر اس امیر نے تھیلی نکال کر دے دی اور کہا شہر کو بھوکا نہ مارو اور اپنی تھیلی لے لو۔پس اپنی کمزوریوں پر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا کیوں اندازہ لگاتے ہو۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ جگہ جگہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مثیل اور خادم پیدا ہوں۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم جگہ جگہ مقام ابراہیم پیدا کر دیں۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے کونے کونے میں مدینے قائم کر دیں۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے کونے کونے میں قادیان قائم کر دیں۔