نظام وصیت — Page 104
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 104 المثل بنائی ہوئی تھی کہ ”ہتھ پھڑے دی لاج رکھنا اور وہ جس کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اسے کبھی نہیں چھوڑتے تھے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر تم نے مضبوطی کے ساتھ اپنے خدا کے دامن کو پکڑ لیا تو وہ تمہاری لاج نہیں رکھے گا۔وہ ایسی لاج رکھے گا کہ دنیا میں کسی نے ایسی لاج نہ رکھی ہوگی۔اور وہ تمہارا اس طرح ساتھ دے گا کہ تمہارے ماں باپ نے بھی تمہارا اس طرح کبھی ساتھ نہیں دیا ہو گا۔روزنامه الفضل 10 جولائی 1956 ، صفحہ 4 تا 7) ہمیشہ کے لئے بابرکت مقام (فرمودہ 28 دسمبر 1952ء) میں اصل تقریر سے قبل یہ بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ ربوہ کے بہشتی مقبرہ کے متعلق ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ جب۔۔۔( حضرت اماں جان۔اللہ آپ سے راضی ہو ) کی نعش مبارک کو قادیان کے بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دفن کر دیا جائے گا تو اس وقت ربوہ کے بہشتی مقبرہ کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔یہ سوال تو بالکل سادہ تھا اور اگر کوئی نئی چیز ہوتی تو انہیں پوچھنے کی ضرورت بھی ہوتی۔مگر پھر بھی میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام میں یہ طریق جاری ہے چنانچہ دیکھ لو مقام ابراہیم مکہ میں ہے مگر حضرت ابراہیم مکہ سے چلے گئے۔اور بیت المقدس میں دفن ہوئے مگر باوجود اس کے ہم اسے صرف خانہ کعبہ نہیں کہتے بلکہ مقام ابراہیم بھی کہتے ہیں کیونکہ نبی تو دنیا میں آتے اور فوت ہو جاتے ہیں مگر ان کے چلے جانے کی وجہ سے کسی مقام کی برکات نہیں جاتیں چنانچہ کل ہی میں نے بتایا تھا کہ کسی مقدس مقام کی برکت کبھی نہیں جاتی اور جس مقام پر ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو جائے تو چونکہ اس مقام نے گناہ نہیں کرنا ہوتا اس لئے وہ فضل چلتا چلا جاتا ہے باپ بڑا نیک ہو اور بیٹا بُرا ہو تو برکت مٹ جائے گی۔مگر جس مقام پر دعائیں کی گئی ہوں اور جہاں خدا نے اپنے فضل کی بارشیں نازل کی ہوں اس مقام کی برکات کبھی مٹ ہی نہیں سکتیں آپ لوگوں نے یہ کیوں سمجھا کہ خدا تعالیٰ کے پاس اتنی تھوڑی برکتیں ہیں کہ اگر وہاں برکتیں نازل کرے گا تو یہاں نہیں کرے گا۔لايعلم جنود ربك الاهو