نظام وصیت — Page 106
ارشادات حضرت مسیح موعود وخلفائے سلسلہ 106 اور تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے پاس جتنی برکتیں تھیں وہ اس نے صرف ایک مقام پر ہی نازل کر دی ہیں۔حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ آگے بڑھو اور میری برکتوں سے حصہ لو۔روکیں تم نے خود کھڑی کر لی ہیں کہ تم کہتے ہو ہم مقام ابراہیم تک نہیں پہنچ سکتے ہم ان برکتوں کے وارث نہیں ہو سکتے جن برکتوں سے پہلے لوگوں نے حصہ پایا پس اگر تم خود ہی ان برکتوں کو نہ لو تو تمہاری مرضی۔تم خود پیچھے ہتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ نہیں ہوسکتا۔اور وہ نہیں ہو سکتا میں نے ایک دفعہ تقریر میں کہہ دیا کہ ہر مومن کو ایک چھوٹا محمد ” بننے کی کوشش کرنی چاہیئے اس پر مخالفین نے شور مچا دیا کہ ہتک ہوگئی۔ہتک ہوگئی۔حالانکہ جب کسی کی اقتداء کرنے کے لئے کہا جائے گا تو ہمیشہ کسی نیک اور پاک آدمی کا نام ہی لیا جائے گا۔شیطان کا نام تو نہیں لیا جائیگا پس سوال یہ ہے کہ آخر ہم کیا کہیں۔اگر یہ کہیں کہ ابلیس بنوتب مصیبت ہے اور اگر کہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مثیل بنوتب مصیبت ہے۔یہ تو ویسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی امیر سفر کے لئے نکلا تو اس نے اپنے ساتھ ایک میراثی لے لیا۔ایک جگہ پہنچے تو بارش آگئی۔اور چھت ٹپکنے لگ گئی۔میراثی نے کہیں سے چار پائی لی چوہدری صاحب کو اس پر بٹھایا اور آپ سرک کر اس کی پائنتی پر بیٹھ گیا۔چوہدری صاحب نے اس کو دو چار تھپڑ لگائے اور کہا کم بخت تو ہمارا مقابلہ کرتا ہے اور ہمارے ساتھ ایک چار پائی پر بیٹھتا ہے آگے چلے تو بیٹھنے کے لئے چار پائی بھی نہ ملی وہ کہیں سے ایک کہی لایا۔اور اس نے زمین کھودنی شروع کر دی کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو۔اس نے کہا بات یہ ہے کہ چو ہدری صاحب کے برابر تو میں بیٹھ نہیں سکتا اب یہ زمین پر بیٹھے ہیں۔تو میرے لئے یہی صورت رہ گئی ہے کہ میں زمین کھود کر ان سے بھی نیچے بیٹھوں یہی حال ان لوگوں کا ہے۔شیطان کہو تب غصہ آتا ہے۔محمد رسول اللہ کہو تب غصہ آتا ہے۔حالانکہ انسان یا محمد رسول اللہ ﷺ کا مثیل بنے گا یا شیطان کا۔پس انسان حیران ہوتا ہے کہ وہ کہے کیا۔غرض اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ تم سارے نبیوں کی برکتیں لو لیکن انسان آپ کمزوری دکھاتا ہے۔اور کہتا ہے یہ نہیں ہوسکتا وہ نہیں ہوسکتا پس میں یہ تو نہیں کہتا کہ ان کی نعش قادیان نہیں جائیگی۔جائیگی اور ضرور جائے گی۔مگر جو برکتیں یہاں