نظام نو — Page 87
ہے وہ یکدم غیر نہیں کرتا بلکہ محبت اور پیار سے ہر قسم کا سرمایہ لوگوں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اسطرح دماغ اور مال دونوں کو تقسیم کر دیتا ہے۔نیچر کی گواہی بھی بالشویک اصول کے خلاف ہے کیونکہ نیچر دماغی طاقتیں بعض کو زیادہ دیتی ہے اور بعض کو کم مگر اس کے بعد انصاف کو اس طرح قائم رکھا جاتا ہے کہ جن کو دماغ ملا ہے انہیں مذہب حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو بھی بنی نوع انسان کی خدمت میں خرچ کریں چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُوْنَ " یعنی مؤمن اور بچے متقی وہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بھی ان کو ملا ہے خواہ دماغ ہو خواہ جسمانی طاقت ہو، خواہ مال ہو، خواہ عقل ہوا سے دوسری مخلوقات کی خدمت میں خرچ کریں۔اسی طرح مال کی نسبت اسلام کرتا ہے وہ اُسے تقسیم کر دیتا ہے مگر بالشویک نظام کی طرح جبر اور ظلم سے نہیں بلکہ انہی کے ہاتھوں سے جن کے پاس مال ہوتا ہے جس طرح دماغ سے انہی کے ہاتھوں فائدہ پہنچاتا ہے جن کے پاس دماغی قابلیتیں ہوتی ہیں۔اس طرح فائدہ بھی ہو جاتا ہے اور دشمنی کا بیج بھی قلوب میں بویا نہیں جاتا۔بالشوزم کے ماتحت غیر منصفانہ سلوک پھر میں کہتا ہوں کہ بالشوزم اب بھی پورا انصاف نہیں کر سکی۔اب بھی اس کے چھوٹوں اور بڑوں میں فرق ہوتا ہے، اب بھی ان کے امیروں اور غریبوں میں فرق ہوتا ہے اور اب بھی ان کے کھانوں میں فرق ہوتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سٹالن کی خوراک اور وہاں کے گاؤں والوں کی خوراک بالکل ایک جیسی ہوتی ہے۔اسی طرح شاہی دعوتوں میں بے انتہا خرچ کیا جاتا ہے ابھی گذشتہ دنوں مسٹر وینڈل ولیکی وہاں گئے تھے تو ایک شاہی دعوت کی تفصیلات شائع ہوئی تھیں جس میں یہ ذکر تھا کہ ایک ڈنر میں ساٹھ کھانے تیار کئے گئے تھے اور وہ سٹالن اور دوسرے لوگوں نے جو اس دعوت میں شریک تھے کھائے۔اگر وہاں واقعہ میں مساوات پائی جاتی ہے اور بڑوں اور چھوٹوں میں کوئی فرق نہیں تو بالشویک اصول کے مطابق ماسکو کا ہر شہری کہ سکتا ہے کہ مجھے ساٹھ 87