نظام نو — Page 86
ہیں۔میں نے خود سفر یورپ کے دوران میں ایسے روسیوں کو دیکھا جو روسی حکومت کے جان کے دشمن ہیں اور اسکی وجہ یہی ہے کہ وہ آرام سے اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھے تھے کہ یکدم حکومت کے نمائندے آئے اور انہوں نے اُن کے بستروں اور پلنگوں اور سامانوں پر قبضہ کر لیا، انہیں مکانات سے نکال دیا، انکا مال و اسباب ضبط کر لیا اور انہیں انکی جائیداد سے بے دخل کر دیا۔یہ مان لیا کہ انہوں نے جو کچھ کمایا تھا اس میں دوسروں کے حقوق بھی شامل تھے مگر نسلاً بعد نسل وہ یہ خیال رکھنے کے عادی ہو چکے تھے کہ یہ سب کچھ ہمارا ہے اسلئے طبعا جب جبری طور پر ان کی جائیدادوں اور اموال واسباب پر قبضہ کیا گیا تو وہ انہیں شدید نا گوار ہوا اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو ملکیتیں پرانی ہو چکی ہیں انکو ہم نہیں توڑیں گے یعنی اس قسم کا سلوک اُن سے نہیں کریں گے کہ انہیں یہ محسوس ہو کہ ہم پر ظلم کیا جارہا ہے۔بالشوزم کا اس امر کو نظر انداز کر دینا کہ دماغ بھی سرمایہ ہے دوسرے بالشویک نظام اس امر کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ جسطرح مال سرمایہ ہے دماغ بھی سرمایہ ہے اور اس سرمایہ کو وہ کس طرح تقسیم کر سکتا ہے یہ نظام دماغی قابلیت کو بالکل برباد کر دیتا ہے کیونکہ وہ دماغی قابلیت کی اتنی قیمت نہیں سمجھتا جتنی ہاتھ سے کام کرنے کی قیمت قرار دیتا ہے اور یہ ایک طبعی اصول ہے کہ ملک میں جس چیز کی قیمت نہ رہے گی وہ گر نی شروع ہو جائیگی۔جن لوگوں کے نزدیک روپیہ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اُن کا روپیہ ضائع ہو جاتا ہے اور جن لوگوں کے نزدیک جائیداد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ان کی جائیداد ضائع ہو جاتی ہے اسی طرح جن لوگوں کے نزدیک دماغ کی کوئی قیمت نہیں ہوتی انکا دماغ گرنا شروع ہو جاتا ہے۔پس بالشویک نظام میں یہ ایک بہت بڑا نقص ہے کہ وہ مال کو تو سرمایہ قرار دیتا ہے مگر دماغ کو سر مایہ قرار نہیں دیتا کیونکہ وہ مال تقسیم کر سکتا ہے مگر اسے تقسیم نہیں کر سکتا اسطرح اسکے اصول کے مطابق دماغ بے قیمت رہ جاتا ہے اور اسکی وجہ سے ایک دن اسکی نشو ونما میں بھی فرق آجائیگا مگر اسلام ہر قدم تدریجاً اٹھاتا 86