نظام نو — Page 99
روس کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ایسا نہ کرو گے تو جو زار روس اور روسی امراء یا فرانس کے امراء کا حال ہو ا و ہی تمہارا ہو گا آخر عوام ایک دن تنگ آکر لوٹ مار پر اُتر آئیں گے اور شاہ پوری محاورہ کے مطابق دُعائے خیر پڑھ دیں گے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اس محاورہ کی تشریح یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے علاقہ میں کچھ مدت پہلے زمیندار پیسے سے قرض لیتے چلے جاتے تھے اور بنیا بھی دیتا چلا جاتا تھا کچھ عرصہ تک تو انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا تھا مگر جب سب علاقہ اُس پیسے کا مقروض ہوجاتا اور زمینداروں کی سب آمد اس کے قبضے میں چلی جاتی تو یہ دیکھ کر اس علاقہ کا کوئی بڑا زمیندار تمام چوہدریوں کو اکٹھا کرتا اور کہتا کہ بتاؤ اس پینے کا قرض کتنا ہے وہ بتاتے کہ اتنا اتنا قرض ہے۔اس پر وہ دریافت کرتا کہ اچھا پھر اس قرض کے اُترنے کا کوئی ذریعہ ہے یا نہیں وہ جواب دیتے کہ ہمیں تو کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا۔اس پر وہ کہتا کہ اچھا تو پھر دعائے خیر پڑھ دوچنانچہ وہ سب دُعائے خیر پڑھ دیتے اور اس کے بعد سب ہتھیار لے کر پینے کے مکان کی طرف چل پڑتے اور اسے قتل کر دیتے اور اس کی بہی اور کھاتے سب جلا دیتے۔جبری ٹیکسوں کے علاوہ زائد اموال خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کی وجہ سے قوموں کی ہلاکت اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایسی ہی حالت کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ دیکھو ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اگر تمہارے پاس زائد مال ہو تو اُسے خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کر دیا کرو اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی بے شک کماؤ تو خوشی سے مگر اس دولت کو اپنے گھر میں نہ جمع رکھا کرو ور نہ کسی دن لوگ تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور تم ہلاک ہو جاؤ گے پھر فرماتا ہے وَاحْسِنُوا بلکہ اس سے بڑھ کر نیکی کرو اور وہ اس طرح کہ تم خود اپنی ضرورتوں کو کم کر کے اور مال بچا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا کرو مگر یاد رکھو کہ یہ عمل تم لوگوں سے ڈر کر نہ کرو بلکہ خوشی سے 99