نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 129

نظام نو — Page 100

کرو۔اگر تم ڈر کر کرو گے تو غریبوں کی مدد تو ہو جائے گی مگر خدا خوش نہیں ہوگا لیکن اگر خوشی سے یہ قربانی کرو گے تو غریب بھی خوش ہونگے تم بھی ہلاکت سے بچ جاؤ گے اور اللہ بھی تم پر خوش ہو گا۔پھر فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ اگر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ پھر ہماری کمائی کا صلہ ہم کو کیا ملا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا صلہ مال سے زیادہ ملے گا اور وہ تمہارے پیدا کرنے والے خدا کی محبت ہے۔تمہاری دُنیا کے ساتھ تمہاری آخرت بھی درست ہو جائے گی اور تم دونوں جہانوں میں آرام اور سکھ سے زندگی بسر کرو گے۔دیکھو اس تعلیم کے ساتھ باوجود انفرادیت اور عائکیت جیسی ضروری چیزوں کی حفاظت کا وہ مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے جسے بالشوزم پورا کرنا چاہتی ہے۔ہر زمانہ میں غرباء کی ضروریات پورا کرنے والی اسلامی تعلیم اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو ہوئی لفظی تعلیم تم کہتے تھے کہ اسلام غرباء کے کھانے کا بھی انتظام کرتا ہے، انکے کپڑے کا بھی انتظام کرتا ہے، انکے مکان کا بھی انتظام کرتا ہے اور انکے علاج اور تعلیم کا بھی انتظام کرتا ہے مگر تم نے یہ نہیں بتایا کہ اسلام اس میں کامیاب بھی ہوا ہے یا نہیں؟ اگر کامیاب ہو چکا ہے تو ہمیں اس کا کوئی نمونہ دکھاؤ۔اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم وہی کامیاب اور اعلیٰ ہوتی ہے جو ہر زمانہ کے مطابق سامان پیدا کرے یعنی وہ لچکدار ہو اور اپنے مقصد کو زمانہ کی ضرورت کے مطابق پورا کرے۔جو تعلیم لچکدار نہیں ہوگی وہ کسی جگہ کام دے گی اور کسی جگہ کام نہیں دے گی۔جیسے اگر کوئی لکڑی کا تختہ ہو تو وہ ہر جگہ کام نہیں آسکے گا اگر جگہ چھوٹی ہوگی تو لازماً وہاں لکڑی کا تختہ کام نہیں دے سکے گا۔کیونکہ وہ اس میں سمائے گا نہیں لیکن اگر کسی کے پاس چادر ہو تو چھوٹی جگہ پر وہ سمیٹی جاسکے گی اور بڑی جگہ پر پھیلائی جاسکے گی۔پس تعلیم وہی کامیاب ہوتی ہے جس میں ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق لچک پیدا ہو سکے۔اس قسم کی لچک نہ ہو جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ مراد لیتے ہیں کہ انہوں نے اس لچک میں سارا قرآن ہی ختم کر دیا ہو۔100