نظام نو — Page 98
غریبوں کی محبت کہاں پیدا ہوگی۔حکومت کے کارندے تو اس سے جبر أمال وصول کر لینگے مگر اس کے دماغ میں غریبوں کی دشمنی گھر کر جائیگی اور وہ ہر وقت یہی کہیگا کہ خدا اس حکومت کا بیڑا غرق کرے جو ہم پر ظلم کر رہی ہے اور خدا ان غریبوں کا بھی بیڑا غرق کرے جن کی وجہ سے ہم پر ظلم کیا جارہا ہے۔دوسری طرف غریبوں کے دلوں میں بھی کوئی محبت پیدا نہیں ہوگی وہ کہیں گے امیر واقعہ میں بڑے ظالم تھے اچھا ہوا کہ حکومت نے انکا مال و اسباب لوٹ لیا لیکن اگر تحریص و ترغیب کے نتیجہ میں غربا کی محبت کا احساس کرتے ہوئے کوئی شخص چند پیسے بھی دے تو اسکے دل میں غریبوں کی محبت پیدا ہوگی اور غریب بھی کہیں گے کہ فلاں شخص بڑا نیک ہے اللہ اسکے مال میں برکت دے وہ ہم غریبوں کا خیال رکھتا ہے۔تو چیز وہی ہوگی مگر ادھر امیروں کے دلوں میں غریبوں کی محبت پیدا ہوگی اور ادھر غریبوں کے دلوں میں امیروں کی محبت پیدا ہوگی۔اور دماغ کی نشو ونما بھی ہوتی رہیگی چنانچہ اسلام نے یہی طریق اختیار کیا ہے۔اسلام کا اُمراء سے جبری ٹیکسوں کے علاوہ طوعی ٹیکسوں کا مطالبہ اس لئے اسلام نے زکوۃ اور عشر وغیرہ جبری ٹیکس بھی لگا دیئے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ہے کہ وَاَنْفِقُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِ يْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ٣٥ یعنی تم مقررہ ٹیکس بھی دومگر اس کے علاوہ ہم تم سے بعض طوعی ٹیکس بھی مانگتے ہیں اور تمہارا فرض ہے کہ تم ان دونوں میں حصہ لو۔چنانچہ ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ أَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللہ ہمیشہ غرباء کی امداد کے لئے روپیہ دیتے رہو۔وَلَا تُلْقُوْا بِايْدِ يُكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ اور اپنے نفسوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔یعنی اے مالدارو! اگر تم اپنے زائد مال خوشی سے دے دو گے تو وہ تو زائد ہی ہیں تم کو کوئی حقیقی نقصان نہ پہنچے گا۔لیکن اگر ایسا نہ کرو گے تو ہلاک ہو جاؤ گے۔یہ الفاظ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے 98