نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 129

نظام نو — Page 59

ہے جنگ کی اجازت صرف انہی کو دی گئی ہے جن پر پہلے دوسروں نے حملہ کیا اور اس وجہ سے دی گئی ہے کہ اُن پر ظلم کیا گیا۔وانَّ اللَّهَ عَلى نَصْرِهِمْ لَقَدِير۔اور اس لئے دی گئی ہے کہ مسلمانوں پر ایسا حملہ ہوا ہے کہ اب خدا چاہتا ہے اُس کی تقدیر دنیا میں جاری ہو۔اور ظالم کو اسکے ظلم کی سزادے اور مظلوم کی مدد کرے۔ایسا ہو سکتا ہے کہ ظالم طاقتور ہو۔اور مظلوم کمزور ہو، ایسی صورت میں اگر کمزور آدمی لڑیگا تو بجائے غالب آنے کے وہ تباہ ہی ہوگا۔قصہ مشہور ہے کہ کوئی پہلوان ایک جگہ سے گزر رہا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے ایک دبلا پتلا شخص جا رہا تھا۔پہلوان نے اپنے سر کومنڈ وا کر اس پر چکنائی لگائی ہوئی تھی۔اس کمزور آدمی نے جب پہلوان کو اس حالت میں دیکھا تو اُس کی طبیعت میں مذاق کے لئے ایسا جوش پیدا ہوا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور اس نے انگلی سے اس کے سر پر ایک ٹھینگا مارا۔پہلوان کو یہ دیکھ کر سخت غصہ آیا اور وہ اُسے زمین پر گرا کر ٹھڈے مارنے لگا۔وہ مار کھاتا جاتا تھا۔اور کہتا جاتا تھا کہ جتنا جی چاہے مار لو مگر جو مزا مجھے ٹھینگا مارنے میں آیا ہے وہ تم کو ساری عمر مار کر بھی نہیں آئیگا۔اب دیکھو وہ چونکہ کمزور تھا اس لئے اُس نے اسی بات کو بڑے فخر کا موجب سمجھا کہ اُس نے ایک طاقتور کے جسم کو چھولیا۔پس ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ظالم ہومگر طاقتور ہو اور مظلوم اس پر غلبہ نہ پاسکتا ہو۔مگر فرماتا ہے ہم نے جواجازت دی ہے وہ اس لئے دی ہے کہ ان پر حملہ کیا گیا اور اس لئے اجازت دی ہے کہ ان ظلم کیا گیا اور اس لئے اجازت دی ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی مدد کریں اور ہمارا فرض ہے کہ ان کمزوروں کو طاقتوروں پر غالب کر دیں۔پس ہم نے انہیں خالی لڑنے کی اجازت نہیں دی بلکہ ہمارا ان کے ساتھ وعدہ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ رہیں گے جب تک تم ظالم کو مغلوب نہیں کر لیتے۔پھر فرماتا ہے: الَّذِيْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْر حق۔وہ گھروں سے نکالے گئے بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی قصور کیا ہو۔إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ۔ان کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے اسلام کو سچا مان لیا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔وَلَوْ لَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ 59