نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 129

نظام نو — Page 40

ہوئے کئی کئی ہزار سال گذر چکے ہیں یہاں تک کہ اُن کے جسم کی چکنائی تک صاف نظر آتی ہے اس کے مقابلہ میں اب جو لاشوں کی حفاظت کے لئے مصالحہ لگایا جاتا ہے۔وہ تھوڑے عرصہ میں ہی خراب ہو جاتا ہے۔اب دیکھو یہ مصریوں کے دماغ کی ایک ایجاد تھی جس کا اب تک لوگ پر یہ نہیں لگا سکے۔اسی طرح دہلی میں ایک حمام تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اسکے نیچے ایک دیا جلا کرتا تھا اور اس دیے کی وجہ سے وہ حمام ہمیشہ گرم رہتا۔کہتے ہیں جب دہلی میں انگریزوں کا تصرف بڑھا تو انہوں نے کہا ہم اسے توڑ کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ حمام کس طرح ایک دیے سے گرم ہوتا ہے چنانچہ انہوں نے اُسے توڑ دیا مگر پھر دوبارہ اُن سے ویسا نہیں بن سکا۔تو مختلف دماغ مختلف کاموں سے شغف رکھتے ہیں جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو ایک کے دماغ کو دوسرے سے روشنی ملتی ہے اور اس طرح ذہنی اور علمی ترقی ہوتی رہتی ہے۔جب ہم کسی۔زمیندار کے پاس بیٹھتے اور اس سے باتیں کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کیا کیا خصوصیات ہیں، بڑھی کے پاس بیٹھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس بڑھئی کی کیا کیا خصوصیات ہیں اور اُن سے مل کر اور باتیں کر کے ہمیں کئی نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور ہماری روح میں بھی زندگی پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح جب ہم کشمیر یا یو۔پی میں چلے جاتے ہیں تو ہمیں نیا علم حاصل ہوتا ہے اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سِيرُوا فِی الأَرْضِ۔یعنی اگر تمہیں توفیق ملے تو تم دنیا کی سیر کیا کرو تا کہ تمہاری معلومات میں اضافہ ہو اور تمہاری دماغی اور علمی ترقی ہو۔جب کوئی شخص عرب جائیگا تو ایک طرف وہ سمندر کی سیر کا لطف اٹھائیگا ، دوسری طرف وہ اس سفر میں ایران اور عراق اور دوسرے کئی ملکوں کو دیکھ لے گا اور اس طرح بہت سی مفید معلومات حاصل کر لیگا لیکن اگر سارے ملک کے لوگوں کو ایک جیسے پیسے ملیں ، ایک جیسا نمک اور ایک جیسا مرچ مصالحہ ملے تو وہ غیر ملکوں کی سیر کے لئے کس طرح جا سکتے ہیں۔پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ کوئی مالدار ہوتا تھا اور کوئی غریب۔مالدار سیر کے لئے غیر ممالک میں چلے جاتے تھے لیکن اس تحریک کے بعد جب سب کو ایک معیار پر 40