نظام نو — Page 41
کھڑا کر دیا جائیگا اور اُن کی مالی حالت ایسی ہوگی کہ سب کو صرف گزارہ کے مطابق اخراجات ملیں گے تو وہ غیر ملکوں کی سیاحت کس طرح کریں گے اور جب سیاحت نہیں کریں گے تو علمی ترقی کا یہ دروازہ اُن پر بند ہو جائیگا حالانکہ ترقی کے لئے ضروری ہے کہ کچھ جماعتیں ایسی ہوں جو اپنا فارغ وقت اس کام میں صرف کریں کہ غیر ملکوں میں جائیں، سیریں کریں اور وہاں کے اچھے خیالات اپنے ملک میں پھیلائیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کے کارندے ایسے سفر کر سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ حکومت کے افراد جو سیاست میں اچھے ہوں وہ سیاحت میں بھی اچھے ہوں۔اگر عام لوگ غیر ملکوں کی سیر کیلئے جائیں تو وکیل اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئیگا ،ڈاکٹر اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئیگا، انجنیئر اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئیگا ، مصوّرا اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئیگا ، شاعر اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئیگا ، اسی طرح کوئی مذہبی لیڈر جائے گا تو وہ اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئے گا لیکن قونصل خانہ کے سیاسی دماغ کیا لائیں گے؟ وہ تو اپنے ماحول میں محدود ہونگے اور اسوجہ سے اُن کی نظر بھی نہایت محدود ہوگی وہ تو اگر لائیں گے تو چند چیزیں ہی لائیں گے اور اس طرح انکی وجہ سے ملک کو وہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا جو عام لوگوں کی سیاحت سے پہنچ سکتا ہے۔اگر وہ کہیں کہ حکومت خود اپنے خرچ پر عام لوگوں کو اس غرض کے لئے بھیج سکتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس طرح پھر تفرقہ پیدا ہو جائیگا اور عدم مساوات کا وہ اصول قائم ہو جائیگا جس کو توڑنے کے لئے یہ تحریک جاری کی گئی تھی اور یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا زید کا دل امریکہ جانے کو چاہتا ہے اور بکر کا دل نہیں چاہتا۔انصاف تو پھر بھی رہ جائیگا اور اس طرح جو کچھ کیا جائیگا اس تحریک کی اصل روح کے خلاف کیا جائیگا۔41