نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 129

نظام نو — Page 39

بعد سٹالن ڈکٹیٹر بن گیا۔سٹالن کے بعد مولوٹو ف کے بن جائیگا پھر کسی اور ٹوف کی باری آجائیگی۔اس طرح یہ تحریک عملی رنگ میں ڈکٹیٹری کے لئے راستہ کھولنے والی ہے۔کمیونزم کا پانچواں نقص یعنی علم کے راستہ میں رکاوٹ پانچواں اس تحریک کا ایک لازمی نتیجہ علم کے راستہ میں رکاوٹ کا پیدا ہونا ہے۔اس رنگ میں بھی کہ جب ہر شخص کو پندرہ پندرہ یا بیس بیس روپے ملیں تو علمی ترقی کی تڑپ اس کے دل میں نہیں رہ سکتی اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ خواہ میں تھوڑ اعلم حاصل کروں یا بہت جب مجھے معاوضہ میرے گزارہ کے مطابق مل جائیگا تو میں زیادہ علم کیوں حاصل کروں اور اس رنگ میں بھی کہ دماغی اور علمی ترقی کے لئے دوسرے ملکوں میں جانا اور ان کے حالات کا دیکھنا ضروری ہوتا ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ وہی تو میں دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں جن کے افراد کثرت سے غیر ملکوں میں جاتے اور وہاں سے مفید معلومات حاصل کرتے ہیں۔اگر چند مخصوص آدمی غیر ممالک کی سیر کے لئے جائیں تو وہ کبھی بھی وہ معلومات حاصل نہیں کر سکتے جو مختلف ممالک اور مختلف اقوام کے لوگ غیر ممالک میں جا کر حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے دماغ میں مختلف قسم کی قابلیتیں رکھی ہیں۔کسی بات میں چینی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں جاپانی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں ایرانی دماغ اچھا کام کرتا ہے، کسی بات میں فرانسیسی دماغ اچھا کام کرتا ہے اور کسی بات میں ہندوستانی دماغ اچھا کام کرتا ہے۔ڈھاکہ کی ململ بڑی مشہور تھی جو یہاں کے جولا ہے تیار کیا کرتے تھے۔انگریزوں نے بڑی بڑی مشینیں نکالیں اور اچھے سے اچھے کپڑے تیار کئے مگر ڈھاکہ کی ململ وہ اب تک نہیں بنا سکے۔اسی طرح مصری لوگ میں بنانے میں بڑے مشہور تھے۔اب بظاہر انگریز اور فرانسیسی علم میں بہت بڑھے ہوئے ہیں مگر سارا زور لگانے کے باوجود وہ اب تک ویسا مصالحہ تیار نہیں کر سکے جو مصری تیار کیا کرتے تھے۔میں نے خود ہی کی ہوئی لاشیں دیکھی ہیں ایسی تازہ معلوم ہوتی ہیں کہ گویا ابھی انہوں نے دم تو ڑا ہے حالانکہ انہیں فوت 39