نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 129

نظام نو — Page 117

وصیت کے ذریعہ جمع ہونے والے روپیہ کی حیرت انگیز بہتات یعنی مجھے اس بات کا خیال نہیں کہ وصیت کے نتیجہ میں اتنے روپے کہاں سے آئیں گے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ کہیں لوگ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھو کر نہ کھا جائیں۔گویا تم تو یہ کہتے ہو کہ ساری دنیا کے غریبوں کا انتظام کس طرح کرو گے اور وہ مال کہاں سے آئیگا جس سے ان کی ضروریات پوری کی جائیں گی مگر مجھے اس بات کا کوئی فکر نہیں کہ یہ مال کہاں سے آئیگا یہ مال آئیگا اور ضرور آئے گا مجھے تو فکر یہ ہے کہ کہیں کثرت مال کو دیکھ کر دنیا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی نہ رہ جائیں اور وہ لوگ جن کے سپرد یہ اموال ہوں وہ دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جائیں اور لالچ کی وجہ سے اُن مدات میں روپیہ خرچ نہ کریں جن مذات کے لئے یہ روپیہ اکٹھا کیا جائیگا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سوال خود ہی اٹھایا ہے اور پھر خود ہی اس کا جواب دیا ہے کہ لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اتنے خزانے کہاں سے آئیں گے آئینگے۔اور ضرور آئیں گے مجھے اگر ڈر ہے تو یہ کہ کہیں کثرت مال کو دیکھ کر لوگ دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جائیں کیونکہ روپیہ اکٹھا ہوگا اور اتنا اربوں ارب اور اربوں ارب اکٹھا ہوگا کہ اتنا مال نہ امریکہ نے کبھی دیکھا ہوگا ، نہ روس نے کبھی دیکھا ہوگا، نہ انگلستان نے کبھی دیکھا ہوگا ، نہ جرمنی، اٹلی اور جاپان نے کبھی دیکھا ہوگا بلکہ ساری حکومتوں نے مل کر بھی اتارو پیہ بھی جمع نہیں کیا ہوگا جتنا روپیہ اس ذریعہ سے اکٹھا ہوگا پس چونکہ اس ذریعہ سے استقدر دولت اکٹھی ہوگی کہ اسقدر دولت دنیا کی آنکھ نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں لوگوں کے دلوں میں بد دیانتی پیدا نہ ہو جائے۔پس تم اس بات کا فکر نہ کرو کہ یہ نظام کس طرح قائم ہوگا تم یہ فکر کرو کہ اس کو صحیح استعمال کرنے کا اپنے آپ کو اہل بناؤ۔دنیا کی جائدادیں تمہارے ہاتھ میں ضرور آئیں گی مگر تم کو اپنے نفوس کی ایسی اصلاح کرنی چاہیئے کہ وہ جائدادیں تمہارے ہاتھ سے دنیا کے فائدہ کے لئے صحیح طور پر خرچ کی جائیں۔117