نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 129

نظام نو — Page 116

کہ ہماری جماعت کا دنیا کے تمام ممالک میں پھیل جانا مقدر ہے۔پس جبکہ ہم خدا تعالیٰ کے الہامات اور اس کے وعدوں کے مطابق یہ یقین رکھتے ہیں کہ آج سے پچاس یا ساٹھ یا سو سال کے بعد بہر حال دنیا پر احمدیت کا غلبہ ہو جائیگا تو ہمیں اس بات پر بھی کامل یقین ہے کہ یہ نظام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمایا ہے ایک دن قائم ہوکر رہے گا۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں کبھی ٹل نہیں سکتیں۔یقینی طور پر وصیت کے ذریعہ پیش کردہ نظام کا قیام بعض لوگ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ نظام نہ معلوم کب قائم ہوگا جماعت کی ترقی تو نہایت آہستہ آہستہ ہو رہی ہے۔اسکا جواب یہ ہے کہ کبھی ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی جو عمارت بے بنیاد ہو وہ بہت جلد گر جاتی ہے یہ جلد بنائے جانے والے نظام جلد گر جائیں گے نظام وہی قائم ہوگا جو ہر کس و ناکس کی دلی خوشنودی کے ساتھ قائم کیا جائے گا گھاس آج نکلتا اور کل سوکھ جاتا ہے لیکن پھل دار درخت دیر میں تیار ہوتا اور پھر صدیوں کھڑا رہتا ہے پس آئندہ جوں جوں ہماری جماعت بڑھتی چلی جائیگی وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دنیا میں جس نظام کو قائم کیا ہے وہ بھی بڑھتا چلا جائیگا چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کتاب الوصیت میں تحریر فرمایا ہے۔و, یہ مت خیال کرو کہ یہ صرف دور از قیاس با تیں ہیں بلکہ یہ اُس قادر کا ارادہ ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے مجھے اس بات کا غم نہیں کہ یہ اموال جمع کیوں کر ہونگے اور ایسی جماعت کیونکر پیدا ہوگی جو ایمانداری کے جوش سے یہ مردانہ کام دکھلائے بلکہ مجھے یہ فکر ہے کہ ہمارے زمانہ کے بعد وہ لوگ جن کے سپر دایسے مال کئے جائیں وہ کثرت مال کو دیکھ کر ٹھوکر نہ کھاویں اور دنیا سے پیار نہ کریں۔سو میں دعا کرتا ہوں کہ ایسے امین ہمیشہ اس سلسلہ کو ہاتھ آتے رہیں جو خدا کے لئے کام کریں ہاں جائز ہوگا کہ جن کا کچھ گزارہ نہ ہو ان کو بطور مددخرچ اس میں سے دیا جائے۔116