نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 129

نظام نو — Page 118

خواجہ کمال الدین صاحب پر الوصیة میں بیان کردہ نئے نظام کا اثر میں اس موقعہ پر ایک دشمن کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے وصیت لکھی اور اسکا مسودہ باہر بھیجا تو خواجہ کمال الدین صاحب اس کو پڑھنے لگ گئے جب وہ پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچے تو وہ بے خود ہو گئے۔انکی نگاہ نے اس کے حسن کو ایک حد تک سمجھا وہ پڑھتے جاتے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر کہتے جاتے کہ ”واہ اوئے مرزیا احمدیت دیاں جڑیاں لگا دتیاں ہیں یعنی واہ واہ مرزا تو نے احمدیت کی جڑوں کو مضبوط کر دیا ہے۔خواجہ صاحب کی نظر نے بیشک اسکے حسن کو ایک حد تک سمجھا مگر پورا پھر بھی نہیں سمجھا در حقیقت اگر وصیت کو غور سے پڑھا جائے تو یوں کہنا پڑتا ہے کہ واہ اومرزا تو نے اسلام کی جڑیں مضبوط کر دیں، واہ اومرزا تو نے انسانیت کی جڑیں ہمیشہ کے لئے مضبوط کر دیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَ بَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کی صورت میں مگر جیسا کہ میں بتا آیا ہوں یہ کام وقت چاہتا ہے اور اُس دن کا محتاج ہے جب سب دنیا میں احمدیت کی کثرت ہو جائے ابھی موجودہ آمد مرکز کو بھی صحیح طور پر چلانے کے قابل نہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں تحریک جدید کا القاء فرمایا تا کہ اس ذریعہ سے ابھی سے ایک مرکزی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک مرکزی جائیداد پیدا کی جائے جسکے ذریعہ تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے۔پس تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اسلئے ہم تیرے حضور اُس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس 118