نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 129

نظام نو — Page 9

ایک اور ڈاکٹر آتا اور وہ بھی تمہیں چالیس روپیہ کی کوئی اور پیٹند وائیں لکھ کر چلا جاتا ہے۔غرض معمولی معمولی زکاموں اور نزلوں پر وہ دو دو چار چار سور و پیہ کی دوائیں خرچ کر دیتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ایک غریب عورت کے بچے کو نمونیہ ہو جاتا ہے اور طبیب اُسے مکو کا عرق یا لسوڑیوں کا جوشاندہ بتاتا ہے اور وہ لسوڑیوں کا جوشاندہ تیار کرنے کے لئے سارے محلہ میں دھیلہ مانگنے کے لئے پھرتی ہے اور کوئی شخص اُسے دھیلا تک نہیں دیتا۔آخر ماں کی مامتا تو ایک غریب عورت کے دل میں بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسے امیر عورت کے دل میں مگر وہاں یہ حالت ہوتی ہے کہ بچہ اگر چھینک بھی لے تو ڈاکٹر پر ڈاکٹر آنا شروع ہو جاتا ہے ، دوائیاں شروع ہو جاتی ہیں، کھلائیوں کو ڈانٹا جاتا ہے کہ تم نے بچے کو ہو الگا دی مگر ایک ویسی ہی ماں دَر دَر دھکے کھاتی ہے اور اُسے ایک دھیلا تک میسر نہیں آتا اور اسکا بچہ تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔تم اپنے ارد گرد کے گھروں پر نگاہ دوڑاؤ تم اپنے محلوں میں پوچھو تمہیں ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں مل جائیں گی۔یہ غربت بعض دفعہ اس حد تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے کہ بالکل نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔غرباء کی درد ناک حالت اور اس کا بھیا تک منظر میرے پاس ایک دفعہ ایک غریب عورت آئی اور اس نے اپنا مد عابیان کرنے سے قبل بڑی لمبی تمہید بیان کی اور بڑی لجاجت کی اور بار بار کہا کہ میں آپ کے پاس بڑی آس اور اُمید لے کر آئی ہوں۔میں اُسے جتنا کہوں کہ مائی کام بیان کرو ہو سکا تو میں کر دونگا اتنی ہی وہ لجاجت اور خوشامد کرتی چلی جاتی تھی۔میں نے سمجھا کہ شاید اس کی کسی لڑکی یا لڑکے کی شادی ہوگی اور اس کے لئے اُسے میں چالیس روپیوں کی ضرورت ہوگی مگر جب میں نے بہت ہی اصرار کیا اور کہا کہ آخر بتاؤ تو سہی تمہیں ضرورت کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگی مجھے فلاں ضرورت کے لئے آٹھ آنے چاہئیں۔میں آج تک اس کا اثر نہیں بھولا کہ کسقد راس نے لمبی تمہید بیان کی تھی کس قدر لجاجت اور خوشامد کی تھی اور پھر سوال کتنا حقیر تھا کہ مجھے آٹھ آنے دے دیئے جائیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ 9