نظام نو — Page 10
اس کے نزدیک دو باتوں میں سے ایک بات بالکل یقینی تھی یا تو وہ یہ سمجھتی تھی کہ کوئی شخص جس کی جیب میں پیسے ہوں وہ کسی غریب کے لئے آٹھ آنے دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوسکتا اور یا پھر کنگال ہونے کی وجہ سے وہ سمجھتی تھی کہ دنیا میں ایسا خوش قسمت انسان کو ئی شاذ و نادر ہی مل سکتا ہے جس کے پاس آٹھ آنے کے پیسے ہوں۔ان دونوں میں سے کوئی سا نظریہ لے لو کیسا خطر ناک اور بھیانک ہے۔اگر اُس کے دل میں یہ احساس تھا اور یہی احساس اور غرباء کے دل میں بھی ہو کہ ہمیں خواہ کیسی شدید ضرورتیں پیش آئیں کوئی شخص ہمارے لئے آٹھ آنے تک خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا تو اُن کے دلوں میں امراء کا جتنا بھی کینہ اور بغض پیدا ہو کم ہے۔اور اگر غرباء کی حالت اسقدر گر چکی ہو کہ وہ اپنے سامنے دوسروں کو اچھا کھانا کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے ہوئے پھر یہ خیال کریں کہ اب کسی کے پاس آٹھ آنے بھی نہیں ہیں اور اگر کسی کے پاس آٹھ آنے ہیں تو وہ بہت بڑا خوش قسمت انسان ہے تو یہ دنیا کے تنزل کے متعلق کیسا خطر ناک نظریہ ہے۔غریبوں کی بہبودی کے لئے مختلف تحریکات کا آغاز ڈیماکریسی یہ حالت بہت دیر سے چلی آرہی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے لوگوں نے اس کی اصلاح کی کوشش بھی کی ہے مگر اب تک کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔اٹھارویں صدی کے آخر سے اس کے متعلق علمی طور پر زیادہ چر چا شروع ہو گیا اور اس احساس بیداری نے جوشکل پہلے اختیار کی دنیا نے اس کا نام ڈیما کریسی (Democracy) رکھا۔یعنی فیصلہ کیا کہ یہ غربت افراد نہیں مٹا سکتے بلکہ حکومت ہی مٹاسکتی ہے۔جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ لاہور یا دہلی میں بیٹھے ہوئے ایک فرد کو کیا علم ہوسکتا ہے کہ ہمالیہ پہاڑ کے دامن میں کسی غریب عورت کا بچہ بھوک سے مر رہا ہے، یا شہروں میں رہنے 10