نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 129

نظام نو — Page 8

غرباء کی حالت کو سدھارنے کی کوششیں اور اُن میں نا کامی کی وجہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض اصلاحیں بھی ہوئیں کوئی نیک دل فلسفی اُٹھا اور اُس نے غرباء کی بہتری کے لئے کوئی تدبیر پیدا کر دی ، کوئی نیک بادشاہ اٹھایا کوئی نیک دل تاجر کھڑا ہوا اور اُس نے حکومت کے کسی شعبہ میں یا کارخانوں میں اصلاح کر دی مگر دنیا کی اصلاح جس پر تمام لوگوں کے امن کا دار ومدار تھا بہ حیثیت مجموعی نہ ہوئی اور عوام کی تکلیفیں بدستور قائم رہیں۔چنانچہ اب بھی اکثر یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ایک شخص کے سامنے سے کیکوں کے ٹکڑے اٹھا کر کتوں کے آگے ڈالے جاتے ہیں اور دوسرے شخص کے بچے سوکھی روٹی کے لئے پلکتے ہوئے سو جاتے ہیں۔یہ مبالغہ نہیں ہر روز دنیا میں کئی ہزار بلکہ کئی لاکھ ماں باپ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کو بھوکا سلاتے ہیں اُمراء اگر چاہیں بھی تو پھر بھی وہ اُن کی مدد نہیں کر سکتے۔آخر ایک امیر کو کیا پتہ کہ ہمالیہ پہاڑ کے دامن میں فلاں جھونپڑی کے اندر ایک غریب عورت کا بچہ بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر رہا ہے۔دتی یا لا ہور کے اُمراء کو کیا علم کہ دنیا کے دُور اُفتادہ علاقوں میں غرباء پر کیا گذر رہی ہے اور وہ کیسے کیسے مشکلات سے دو چار ہو رہے ہیں۔اوّل تو اُن کے دلوں میں غرباء کی مدد کی خواہش ہی پیدا نہیں ہوتی اور اگر خواہش پیدا ہو تو اُن کے پاس ایسے سامان نہیں ہیں جن سے کام لے کر وہ تمام دنیا کے غرباء کی تکالیف کو دور کر سکیں۔اُنہیں کیا پتہ کہ غرباء کہاں کہاں ہیں اور اُن کی کیا کیا ضرورتیں ہیں۔اُمراء کے مقابلہ پر غرباء کی نا قابل برداشت حالت امیر لوگ بیمار ہوتے ہیں تو بعض دفعہ ڈاکٹر انہیں پچاس پچاس روپیہ کی پیٹینٹ دوا ئیں بتا کر چلا جاتا ہے مگر اُن کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بازار سے چھ سات شیشیاں منگا کر اُن میں سے کسی ایک کو کھولتے ہیں اور ذرا سا چکھ کر کہتے ہیں یہ دوا ئیں ٹھیک نہیں کوئی اور ڈاکٹر بلا ؤ۔چنانچہ 8