نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 129

نظام نو — Page 111

اور باون فیصدی اس خاندان کے پاس رہ جائے گا اس کے بعد اس کا لڑکا مثلاً باون روپوں کے پانچویں حصہ کی وصیت کر دے گا تو دس روپے ان کے ہاتھ سے اور نکل جائیں گے اس طرح قومی فنڈ میں اٹھاون فی صدی آجائے گا اور اس خاندان کے پاس صرف بیالیس فی صدی رہ جائے گا۔غرض وہی مقصد جو بالشوزم کے ماتحت تلوار اور خونریزی سے حاصل کیا جاتا ہے اگر وصیت کا نظام وسیع طور پر جاری ہو جائے تو مقصد بھی حل ہو جائے فساد اور خونریزی بھی نظر نہ آئے ، آپس میں محبت اور پیار بھی رہے، دُنیا میں کوئی بھوکا اور تنگا بھی دکھائی نہ دے اور چند نسلوں میں انفرادیت کی روح کو تباہ کئے بغیر قومی فنڈ میں دنیا کی تمام جائدادیں منتقل ہو جائیں۔وصیت کا نظام ملکی نہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی ہوگا پھر یہ نظام ملکی نہ ہوگا بلکہ بوجہ مذہبی ہونے کے بین الاقوامی ہوگا۔انگلستان کے سوشلسٹ وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر انگلستان تک محدود ہو، روس کے بالشویک وہی نظام پسند کرتے ہیں جس کا اثر روس تک محدود ہو مگر احمد یت ایک مذہب ہے وہ اس نئے نظام کی طرف روس کو بھی بلاتی ہے، وہ جرمنی کو بھی بلاتی ہے۔وہ انگلستان کو بھی بلاتی ہے۔وہ امریکہ کو بھی بلاتی ہے، وہ ہالینڈ کو بھی بلاتی ہے، وہ چین اور جاپان کو بھی بلاتی ہے پس جو روپیہ احمدیت کے ذریعہ اکٹھا ہوگا وہ کسی ایک ملک پر خرچ نہیں کیا جائیگا بلکہ ساری دنیا کے غریبوں کے لئے خرچ کیا جائیگا۔وہ ہندوستان کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ چین کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ جاپان کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ افریقہ کے غرباء کے بھی کام آئے گا وہ عرب کے غرباء کے بھی کام آئے گا، وہ انگلستان، امریکہ، اٹلی، جرمنی اور روس کے غرباء کے بھی کام آئے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیش کردہ عالمگیر اخوت بڑھانیوالا نظام غرض وہ نظام جو دنیوی ہیں وہ قومیت کے جذبہ کو بڑھاتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ 111