نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 129

نظام نو — Page 112

الصلوۃ والسلام نے وہ نظام پیش کیا ہے جو عالمگیر اخوت کو بڑھانے والا ہے۔پھر روس میں تو روس کا باشندہ روس کے لئے جبراً اپنی جائداد دیتا ہے لیکن وصیت کے نظام کے ماتحت ہندوستان کا باشندہ اپنی مرضی سے سب دنیا کے لئے دیتا ہے، مصر کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائداد سب دنیا کے لئے دیتا ہے، شام کا باشندہ اپنی مرضی سے اپنی جائداد ساری دُنیا کے لئے دیتا ہے یہ کتنا نمایاں فرق ہے اسلامی اور دنیوی میں؟ اسلامی نظامِ تو کے ماتحت غرباء کے لئے جائدادیں دینے والوں کے دلوں میں انتہائی بشاشت اور سرور پھر روسی نظام چونکہ جبر سے کام لیتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے مالدار روس سے نکل کر اس کے خلاف جدو جہد شروع کر دیتے ہیں اور ان کے دلوں میں غریبوں کو جائدادیں دے کر کوئی خوشی اور بشاشت پیدا نہیں ہوتی۔ایک روسی سے جس وقت اس کی جائداد چھین لی جاتی ہے وہ ہنستا نہیں بلکہ روتا ہوا اپنے گھر جاتا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے کہتا ہے کمبخت حکومت نے میری جائداد مجھ سے چھین لی لیکن اس نظام کو میں ایک زمیندار جس کے پاس دس ایکڑ زمین ہوتی ہے وہ ایک یا دو یا تین ایکڑ زمین دے کر روتانہیں بلکہ دوسرے ہی دن اپنے بھائی کے پاس جاتا ہے اور اسے کہتا ہے اے بھائی! مجھے مبارک باد دو کہ میں نے وصیت کی توفیق پائی اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جس کے دوسرے معنے یہ ہوتے ہیں کہ غریبوں کے لئے دو یا تین ایکٹر زمین مجھ سے چھین لی گئی ہے مگر وہ روتا نہیں وہ غم نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے بھائی جان! مجھے مبارک دو کہ میں نے وصیت کر دی اور کہتا ہے اللہ اب مجھے وہ دن بھی دکھائے کہ آپ بھی وصیت کر دیں اور میں آپ کو مبارک باد دینے کے قابل ہو جاؤں۔جس وقت بیوی کو وہ یہ خبر سناتا ہے بیوی یہ نہیں کہتی کہ خدا تباہ کرے ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری جائداد لوٹ لی بلکہ اس کے ہونٹ کانپنے لگ جاتے ہیں، اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ للچائی ہوئی نگاہوں سے ان نگاہوں سے 112