نظام نو — Page 105
اوّل: سب انسانوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔دوم: مگر اس کام کو پورا کرتے وقت انفرادیت اور عائلی زندگی کے لطیف جذبات کو تباہ نہ ہونے دیا جائے۔تیسرے یہ کام مالداروں سے طوعی طور پر لیا جائے اور جبر سے کام نہ لیا جائے۔چوتھے: یہ نظام ملکی نہ ہو بلکہ بین الاقوامی ہو۔آج کل جس قدر تحریکات جاری ہیں وہ سب کی سب ملکی ہیں مگر اسلام نے وہ تحریک پیش کی ہے جو ملکی نہیں بلکہ بین اقوامی ہے۔اسلامی تعلیم کی ساری خوبی ان چاروں اصول میں مرکوز ہے۔اگر یہ چاروں اصول کسی تحریک میں پائے جاتے ہوں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تحریک سب سے بہتر اور سب تحریکات سے زیادہ کمل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ۱۹۰۵ء میں دنیا سے دُکھ کو دور کرنے والے نئے نظام کی بنیاد اب میں بتا تا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان چاروں مقاصد کو اس زمانہ کے مامور، نائب رسول اللہ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے کس طرح پورا کیا اور کس طرح اسلامی تعلیم کے عین مطابق دنیا کے ایک نئے نظام کی بنیاد رکھ دی۔یہ بالشوزم، سوشلزم اور نیشنل سوشلزم کی تحریکیں سب جنگ کے بعد کی پیدائش ہیں۔ہٹلر جنگ کے بعد کی پیدائش ہے۔مسولینی سے جنگ کے بعد کی پیدائش ہے اور سٹالین جنگ کے بعد کی پیدائش ہے۔غرض یہ ساری تحریکیں جو دنیا میں ایک نیا نظام قائم کرنے کی دعویدار ہیں ۱۹۱۹ء اور ۱۹۲۷ء کے گرد چکر لگارہی ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے مامور نے نئے نظام کی بنیاد ۱۹۰۵ء میں رکھ دی تھی اور وہ ” الوصیت“ کے ذریعہ رکھی تھی۔105