نظام نو — Page 106
قرآن مجید میں مختلف ضرورتوں کے وقت طوعی قربانیاں کرنے کی طرف اشارہ قرآن کریم نے اصولی طور پر فرمایا تھا أَنْفِقُوا فِی سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوْا بِأَيْدِ يْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَاحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (البقرہ : ۱۹۶) مگر اس تعلیم میں خدا تعالیٰ نے طوعی قربانیوں کے کوئی معین اصول مقرر نہ فرمائے تھے صرف یہ کہا تھا کہ اے مسلمانو! تمہیں علاوہ جبری ٹیکسوں کے بعض اور ٹیکس بھی دینے پڑیں گے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ٹیکس کتنے ہونگے اور اُنکی معین صورت کیا ہوگی۔اگر کسی زمانہ میں اسلامی حکومت کوسو میں سے ایک روپیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو خلیفہ وقت کہہ دیا کرتا تھا کہ اے بھائیو! اپنی مرضی سے سو میں سے ایک روپیہ دے دو، اور اگر کسی زمانہ میں اسلامی حکومت کو سو میں سے دور و پیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو خلیفہ وقت کہہ دیا کرتا تھا کہ اے بھائیو! اپنی مرضی سے سو میں سے دور و پئے دے دو اسی وجہ سے ہر زمانہ میں اس کی الگ الگ تعبیر کی گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعبیر اس طرح کی کہ وقتاً فوقتاً زائد چندے مانگ لئے اور خلفاء نے اپنے زمانہ کے مطابق اس کی اس طرح تعبیر کی کہ جو اموال فوجوں میں تقسیم کرنے کے لئے آیا کرتے تھے اُن کے ایک بڑے حصہ کو محفوظ کر لیا اور سپاہیوں سے کہا کہ تم اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دو اور حضرت مسیح موعود نے اپنے زمانہ کے مطابق تعبیر کر لی۔اگر اسلامی حکومت نے ساری دُنیا کو کھانا کھلانا ہے، ساری دُنیا کو کپڑے پہنانا ہے، ساری دُنیا کی رہائش کے لئے مکانات کا انتظام کرنا ہے، ساری دُنیا کی بیماریوں کے لئے علاج کا انتظام کرنا ہے، ساری دُنیا کی جہالت کو دور کرنے کے لئے تعلیم کا انتظام کرنا ہے تو یقیناً حکومت کے ہاتھ میں اس سے بہت زیادہ روپیہ ہونا چاہئے جتنا پہلے زمانہ میں ہوا کرتا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اعلان فرمایا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اُن لوگوں کے لئے جو حقیقی جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ انتظام فرمایا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنے مال کے کم سے کم دسویں حصہ کی اور زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی 106