نظام نو — Page 104
کے لئے ضروری تھا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور وہ ان تمام دکھوں اور دردوں کو مٹانے کے لئے ایسا نظام پیش کرے جو زمینی نہ ہو بلکہ آسمانی ہو اور ایسا ڈھانچہ پیش کرے جو اُن تمام ضرورتوں کو پیدا کر دے جو غرباء کو لاحق ہیں اور دُنیا کی بے چینی کو دور کر دے۔اب ہر شخص جو تسلیم کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی موعود کی بعثت کی خبر دی ہے، ہر شخص جو تسلیم کرتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مسیح اور مہدی کے آنے کی خوشخبری دی ہے لازماً اُسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس زمانہ میں جو فتنہ وفساد اور دُکھ نظر آرہا ہے اس کو دور کرنے کا کام بھی اسی مأمور کے سپرد ہونا چاہئے تا کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو بالشوزم کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔وہ نتائج بھی پیدا نہ ہوں جو سوشلزم کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو نیشنل سوشلزم کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں دنیا کوکھانا بھی مل جائے ، دنیا کو کپڑا بھی مل جائے، دنیا کو مکان بھی مل جائے، دنیا کو دوا بھی مل جائے اور دنیا کو تعلیم بھی میسر آجائے پھر دماغ بھی کمزور نہ ہو۔انفرادیت اور عائلیت کے اعلیٰ جذبات بھی تباہ نہ ہوں، ظلم بھی نہ ہو، لوگوں کو لوٹا بھی نہ جائے ، امن اور محبت بھی قائم رہے لیکن روپیہ بھی مل جائے۔موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق دنیا سے دکھ کو دور کرنے کی خاتم الخلفاء کی سکیم پس موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے خاتم الخلفاء کا فرض تھا کہ وہ اسلامی اصول کے مطابق کوئی سکیم تیار کرتا اور دُنیا سے اس مصیبت کا خاتمہ کر دیتا۔چنانچہ جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا اُس نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے سامان بہم پہنچا دیئے ہیں۔غرباء کی تکلیف دور کرنے کے لئے اسلامی حکیم اور اس کے اہم اصول میں اوپر بتا چکا ہوں کہ اسلامی سکیم کے اہم اصول یہ ہیں :- 104