نظام نو — Page 101
ابتدائے اسلام میں غرباء کی ضرورتیں پوری کرنے کا طریقہ اسلام کے ابتدائی دور میں اُس کی ضرورت کے مطابق یہ تعلیم کلی طور پر کامیاب رہی ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں نہ صرف سادگی پر عمل کرایا گیا بلکہ جب حکومت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوئی تو تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ علاوہ زکوۃ کے غرباء کی سب ضرورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چندوں سے پوری فرمایا کرتے تھے اور اس ضمن میں بعض دفعہ صحابہ بڑی بڑی قربانیاں کیا کرتے تھے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک وقت اپنا سارا مال دے دیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک وقت قریباً سارا مال دے دیا اور یہ زکوۃ نہ تھی۔پس جس قدرضرورت تھی اس کے مطابق اس تعلیم نے کام دے دیا اور یہ طریق اس زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے بالکل کافی تھا۔خلفائے اسلام کے زمانہ میں منتظم طور پر غرباء کی ضروریات کو پورا کرنے کی جدو جہد جب حکومت زیادہ پھیلی اور خلفاء کا زمانہ آیا تو اس وقت منظم رنگ میں غرباء کی ضروریات کو پورا کرنے کی جدوجہد کی جاتی تھی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایسے رجسٹر بنائے گئے جن میں سب لوگوں کے نام ہوتے تھے اور ہر فرد کے لئے روٹی اور کپڑا مہیا کیا جاتا تھا اور فیصلہ کیا جاتا تھا کہ فی مرد اتنا غلہ ، اتنا گھی، اتنا کپڑا اور اتنی فلاں فلاں چیز دی جائے۔اسی طرح ہر شخص کو چاہے وہ امیر ہو یا غریب اس کی ضروریات زندگی مہیا ہو جاتی تھیں اور یہ طریق اُس زمانہ کے لحاظ سے بالکل کافی تھا۔آج دنیا یہ خیال کرتی ہے کہ بالشوزم نے یہ اُصول ایجاد کیا ہے کہ ہر فرد کو اس کی ضروریات زندگی مہیا کی جانی چاہئیں حالانکہ یہ طریق اسلام کا پیش کردہ ہے اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس پر منظم رنگ میں عمل بھی کیا جا چکا ہے بلکہ یہاں تک تاریخوں میں آتا ہے کہ شروع میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو فیصلہ کیا تھا اُس میں اُن چھوٹے بچوں کا جو شیر خوار ہوں خیال نہیں 101