نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 129

نظام نو — Page 102

رکھا گیا تھا اور اسلامی بیت المال سے اُس وقت بچے کو مد دلنی شروع ہوتی تھی جب ماں بچے کا دودھ چھڑا دیتی تھی۔یہ دیکھ کر ایک عورت نے اپنے بچے کا دودھ چھڑادیا تا کہ بیت المال سے اس کا بھی وظیفہ مل سکے۔ایک رات حضرت عمر گشت لگا رہے تھے، کہ آپ نے ایک جھونپڑی میں سے ایک بچے کے رونے کی آواز سنی حضرت عمر اندر گئے اور پوچھا کہ یہ بچہ کیوں رورہا ہے اس عورت نے کہا عمرؓ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ جب تک بچہ دودھ پینا نہ چھوڑے اس کا وظیفہ نہیں لگ سکتا اس لئے میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تا کہ وظیفہ لگ جائے اور اسی وجہ سے یہ رورہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا واہ عمر معلوم نہیں تو نے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے حکم دے دیا کہ پیدائش سے ہی ہر بچے کو وظیفہ ملا کرے۔پس اس وقت یہ انتظام تھا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ انتظام اُس وقت کی ضروریات اور اس زمانہ کے لحاظ سے کافی تھا۔ہاں یہ درست ہے کہ اُس زمانہ میں غربت اور امارت میں وہ بعد نہ تھا جو اب ہے۔اس وقت مقررہ ٹیکس اور حکومت اور افراد کو صاحب دولت لوگوں کی بر وقت امداد ان اغراض کو پورا کر دیتی تھی۔تجارتی مقابلہ اُس وقت اس قدر نہ تھا جواب ہے۔مقابل کی حکومتیں اس طرح ہمسایہ ملکوں کی دولت کو با قاعدہ نہ لوٹی تھیں جیسا کہ اب لوٹتی ہیں اس لئے ہم مانتے ہیں کہ وہ انتظام آج کارگر نہیں ہو سکتا لیکن اصولی لحاظ سے وہ تعلیم آج بھی کارگر ہے۔اس وقت بغیر اس کے کہ کوئی نیا طریق ایجاد کیا جاتا اُسی آمدن سے جو مقررہ ٹیکسوں یا طوعی چندوں سے حاصل ہوتی تھی گزارہ چلایا جا سکتا تھا پس اُس وقت اُسے کافی سمجھا گیا مگر وہ انتظام آج کافی نہیں ہوسکتا۔آج کل کا زمانہ منظم زمانہ ہے اس وقت دنیا کی بے چینی کو دیکھ کر حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی بیشتر دولت اُن کے ہاتھ میں ہو اور اگر مذکورہ بالا تحریکیں کامیاب ہوئیں یعنی ان میں سے کوئی ایک کامیاب ہوئی تو لازماً افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور حکومتوں کے ہاتھ میں زیادہ چلا جائے گا۔بالشوزم کامیاب ہوتب بھی اور سوشلزم کامیاب ہو تب بھی نتیجہ یہی ہوگا کہ 102