نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 129

نظام نو — Page 54

سب کو شو در سمجھا جاتا ہے اس لئے جس قد رسید مغل اور پٹھان وغیرہ ہیں سب ہندوؤں کے نزدیک شودر ہیں اور ان سب کے متعلق برہمنوں کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ان کی دولت کو لوٹ لیں۔اگر کوئی شخص روپیہ کمائے اور برہمن اس سے وہ روپیہ لوٹ لے تو اس کا کوئی حق نہیں کہ عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور اگر وہ عدالت میں دعوی دائر کر یگا تو منوکی اس تعلیم کے ماتحت اُسے کہا جائیگا تو جھوٹا ہے تیرا تو وہ مال تھا ہی نہیں وہ تو براہمن کا مال تھا۔گویا اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص کہیں سے گذر رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ لوگ ایک شخص کو چار پائی پر اٹھا کر اُسے دفن کرنے کے لئے لے جارہے ہیں اور چار پائی پر جو شخص ہے وہ شور مچار ہا ہے کہ خدا کے واسطے مجھے بچاؤ خدا کے واسطے مجھے بچاؤ۔لوگوں کے ہجوم کو دیکھ کر وہ بھی ٹھہر گیا اور کہنے لگا بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا حج صاحب نے حکم دیا ہے کہ اس شخص کو دفن کر دیا جائے کیونکہ یہ مر چکا ہے۔وہ کہنے لگا یہ تو زندہ ہے اور شور مچا رہا ہے کہ مجھے بچایا جائے۔وہ کہنے لگے خواہ کچھ ہو جج صاحب کا یہی حکم ہے کہ یہ شخص مر چکا ہے اور اسے دفن کر دینا چاہئے۔سیاح نے کہا یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔جنازہ اٹھا نیوالوں نے جواب دیا کہ آپ کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے جو کچھ حج صاحب نے کہا وہی ٹھیک ہے یہ شخص یو نبی جھوٹ بول رہا ہے اور کہتا ہے کہ میں مرا ہیں۔آخر وہ سیاح حج صاحب کے پاس گیا اور اُسے جا کر کہا کہ میں نے آج ایک نظارہ دیکھا ہے اور میں اس پر حیران ہوں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک زندہ شخص کو آپ نے مرا ہوا کس طرح قرار دے دیا؟ حج نے جواب دیا تم تو بیوقوف ہو تمہیں حالات کا علم نہیں اگر علم سے کام لیتے تو اُسے مرا ہوا ہی سمجھتے۔اصل بات یہ ہے کہ ایک سال ہوا میرے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرا خاوند باہر گیا ہوا تھا اب میں نے سنا ہے کہ وہ مر گیا ہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں کسی اور شخص سے شادی کرلوں۔میں نے کہا کہ گواہیاں لاؤ۔وہ دو معتبر گواہ میرے پاس لائی جنہوں نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے فلاں سرائے میں اس کے خاوند کو مرتے ہوئے دیکھا تھا اور انہوں نے خود ہی اُسے دفن کیا تھا۔چنانچہ اس عورت کو شادی کی اجازت دے دی گئی۔اب کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص 54